رسائی کے لنکس

تنقیدی خبروں کا سلسلہ بند نہیں کیا جائے گا: نیو یارک ٹائمز


فائل

فائل

چین نےبارہا ’نیو یارک ٹائمز‘ کے نمائندوں کو ویزا جاری نہیں کیا ،جب کہ اخبار کے انگریزی اور چینی زبانوں کی ویب سائٹس تک رسائی بند رہتی ہے۔ اِن اقدامات سے عام طور پر یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ اخبار کو سزا دینے کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں

’نیویارک ٹائمز‘ نے یہ عہد دہرایا ہے کہ وہ چین سے متعلق کوریج کو تبدیل نہیں کرے گا، جس سے قبل صدر شی جِن پنگ کی طرف سے اس بات کی تصدیق سامنے آ چکی ہے کہ چین ایسے غیر ملکی خبروں کے اداروں پر جرمانہ عائد کر رہا ہے جو تنقیدی خبریں شائع کرتے ہیں۔

صدر ژی کا یہ بیان بدھ کے روز بیجنگ میں صدر براک اوباما کے ہمراہ کی جانے والی اخباری کانفرنس کے دوران سامنے آیا۔

جب ’نیو یارک ٹائمز‘ کے نامہ نگار نے اُن سے پوچھا کہ ویزا کے حصول میں صحافیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو مسٹر ژی نے یہ بات باور کرائی کہ یہ خود رپورٹروں کا اپنا قصور ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ میڈیا کے اداروں کو ’چین کے قوانین اور ضابطوں کی پاسداری کرنی پڑے گی‘۔

چینی صدر کے بقول، ’جب ایک کار بیچ سڑک خراب ہوجائے، تو پھر ہمیں نیچے اتر کردیکھنا پڑتا ہے کہ مسئلہ کیا ہے۔اور جب کوئی معاملہ مسئلہ بنے تو اُس کے پیچھےکوئی وجہ ہونی چاہیئے۔ چینی زبان میں ایک کہاوت ہے: جس فریق نے مسئلہ پیدا کیا اُسی سے ہی اُس کے حل کے لیے مدد مانگنی چاہیئے۔ اِس لیے، شاید ہمیں یہ دیکھنا ہوگا آیا مسئلہ کہاں ہے۔‘َ
چین نےبارہا ’نیو یارک ٹائمز‘ کے نمائندوں کو ویزا جاری نہیں کیا ،جب کہ اخبار کے انگریزی اور چینی زبانوں کی ویب سائٹس تک رسائی بند رہتی ہے۔ اِن اقدامات سے عام طور پر یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ اخبار کو سزا دینے کے حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔

پچھلے دِنوں، ’نیو یارک ٹائمز‘ نے ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس میں چین کے لیڈروں اور اُن کے اہل خانہ کے ارکان کی طرف سے دولت کے مبینہ ارتکاز سے پردہ فاش کیا جاتا ہے۔

بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں، ’نیو یارک ٹائمز‘ کے ادارتی بورڈ نے کہا ہے کہ مسٹر ژی کا پیغام واضح ہے: ’وہ غیر ملکی خبر رساں اداروں کو متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ اُن کے مسائل اُن کے خود پیدا کردہ ہیں؛ اُنھیں ناپسندیدہ یا متنازع نیوز کوریج کی بنا پر ہدف بنایا جارہا ہے‘۔

ادارتی بورڈ نے کہا ہے وہ کسی حکومت کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے اپنی خبروں کا انداز بدلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، جس میں چین، امریکہ یا کوئی بھی دوسرا ملک شامل ہے۔ اُنھوں نے زور دے کر کہا کہ کوئی بھی قابل قدر اخباری ادارہ ایسا نہیں کر سکتا۔

XS
SM
MD
LG