رسائی کے لنکس

ہم جنسوں کو باہم شادی کی اجازت ہونی چاہیئے: اوباما


"ذاتی طور پر میں اسے ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم جنس جوڑوں کو شادی کرنے کی اجازت ہونی چاہیئے"

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم جنس پرستوں کو باہم شادی رچانے کی اجازت ہونی چاہیئے۔

صدر اوباما نے یہ بیان بدھ کو امریکی ٹی وی 'اے بی سی نیوز نیٹ ورک' کے ساتھ ایک انٹرویو میں دیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب صدر اوباما نے ہم جنسوں کی باہم شادیوں کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر یہ کہہ کر اس موضوع پر کھل کر اظہارِ رائے سے گریز کرتے آئے تھے کہ اس بارے میں ان کی سوچ ابھی ارتقائی مراحل میں ہے۔

انٹرویو میں صدر اوباما کا کہنا تھا، "ذاتی طور پر میں اسے ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم جنس جوڑوں کو شادی کرنے کی اجازت ہونی چاہیئے"۔

لیکن صدر نے انٹرویو کے دوران میں واضح کیا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے جو کئی برسوں کی سوچ و بچار اور اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد تشکیل پائی ہے۔

صدر اوباما کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز ہی امریکہ کی جنوبی ریاست شمالی کیرولائنا کے ریاستی آئین میں ایک ترمیم منظور کی گئی ہے جس کے تحت شادی کی تعریف کو ایک مرد اور عورت کے باہمی تعلق کے معروف معنوں تک محدود کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ شمالی کیرولائنا میں ہم جنس پرستوں کی شادیوں پر پہلے ہی قانوناً پابندی عائد ہے۔

اس سے قبل اتوار کو امریکی ٹی وی 'این بی سی' کے پروگرام 'میٹ دی پریس' میں گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قطعا کوئی مسئلہ نہیں سمجھتے۔

بین الاقوامی ادارے 'گیلپ' کی جانب سے کیے جانے والے رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق 50 فی صد امریکی باشندے ہم جنس شادیوں کو قانونی طور پر تسلیم کیے جانے کے حامی ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ واشنگٹن میں واقع تحقیقاتی ادارے 'پیو ریسرچ سینٹر' نے ایک سروے جاری کیا تھا جس کے مطابق 47 فی صد امریکی باشندے ہم جنس شادیوں کی حمایت کرتے ہیں جب کہ 43 فی صد ان کے خلاف ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے علاوہ ملک کی کل سات ریاستوں میں ہم جنس شادیوں کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔

صدر اوباما کے حالیہ بیان کے بعد امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ہم جنسوں کی باہم شادیوں کا یہ موضوع رواں برس نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب تک امیدواران کی گفتگووں اور مباحثوں کا ایک اہم موضوع بنا رہے گا۔

XS
SM
MD
LG