رسائی کے لنکس

عراق جنگ کا خاتمہ عراق اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے: صدر اوباما کا خطاب


عراق جنگ کا خاتمہ عراق اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے: صدر اوباما کا خطاب

عراق جنگ کا خاتمہ عراق اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے: صدر اوباما کا خطاب

عراق میں امریکی فوج کے جنگی مشن کے اختتام کے حوالے سے صدر اوباما نے کہا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ نہ صرف عراق کے بلکہ خود امریکہ کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ منگل کے روز امریکی قوم سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ عراقی عوام کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھ میں دینے کے لیے امریکہ نے بہت قربانیاں دیں ہیں اور وہاں اپنے فوجی بھیجنے کے ساتھ ساتھ، بے پناہ وسائل بھی صرف کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور عراق کی تاریخ کے اس اہم موڑ پر ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔

عراق میں امریکی فوج کے جنگی مشن کے اختتام کے حوالے سے صدر اوباما نے کہا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ نہ صرف عراق کے بلکہ خود امریکہ کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ منگل کے روز امریکی قوم سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ عراقی عوام کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھ میں دینے کے لیے امریکہ نے بہت قربانیاں دیں ہیں اور وہاں اپنے فوجی بھیجنے کے ساتھ ساتھ، بے پناہ وسائل بھی صرف کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور عراق کی تاریخ کے اس اہم موڑ پر ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔

صدر اوباما نے منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے اوول آفس سے قوم سے خطاب کیا۔

صدر نے اپنے خطاب میں عراق میں امریکی جنگی مشن کے خاتمے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب عراقی عوام کو اپنی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ عراق سے امریکی فوجوں کی واپسی ایک نئے دور کا آغاز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ موقع تمام امریکیوں کو یاد دلاتا ہے کہ اگرہم اعتماد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھیں تو اپنا مستقبل خود تشکیل دے سکتے ہیں۔ یہ پوری دنیا کے لیے بھی ایک پیغام ہونا چاہیے کہ امریکہ اس صدی کے اوائل ہی میں اپنی قیادت کو مضبوط اور پائیدار بنانے کا خواہاں ہے۔

عراق جنگ کا خاتمہ عراق اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے: صدر اوباما کا خطاب

عراق جنگ کا خاتمہ عراق اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے: صدر اوباما کا خطاب

صدر نے امریکی فوج کے مرو وں اور خواتین کی قربانیوں کو خراج پیش کرتے ہوئے ان کی ہمت اور جرآت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک کمانڈر انچیف کی حیثیت سے انہیں اپنے فوجیوں کی خدمات پر فخر ہے۔

صدر نے کہا کہ عراق کی آزادی کا مشن آج ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایک صدارتی امیدوار کی حیثیت سے یہ میرا امریکی عوام سے وعدہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال فروری میں میں نے عراق سے اپنے لڑاکا بریگیڈ واپس بلانے کے منصوبے کا اعلان کیاتھا۔ جب کہ عراق کی سیکیورٹی فورسز اور اس کے عوام اور حکومت کی حمایت د گنی کردی گئی تھی۔ ہم یہ کرچکے ہیں۔ ہم نے عراق سے اپنے ایک لاکھ کے قریب فوجی واپس بلا لیے ہیں۔ ہم نے یا تو سینکڑوں فوجی اڈے بند کردیے ہیں یا عراقیوں کے حوالے کردیے ہیں۔ اور ہم لاکھوں کی تعداد میں سازوسامان عراق سے باہر لے آئے ہیں۔

صدر نے اپنی تقریر کے دوران میں واضح کیا کہ اس جنگ کا خاتمہ عراق کے مفاد میں ہے اور امریکہ کے اپنے مفاد میں بھی ۔

صدر نے کہا کہ اب ہمارےلیے سب سے اہم اور فوری ذمہ داری معیشت کی بحالی ہے اور لاکھوں امریکیوں کو جو اپنی ملازمتیں کھوچکے ہیں، کام پر واپس لانا ہے۔

صدر نے 11 ستمبر 2001ء میں امریکہ پر دہشت گرد حملوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اندرون ملک ہر سیاسی طبقہ فکر نے 11 ستمبر کے حملہ آوروں کے خلاف طاقت کے استعمال کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے عراقیوں کا مستقبل ان کے ہاتھوں میں سوپنے کے لیے بڑی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ہم نے اپنے جوان مرد و خواتین کو عراق میں قربانیوں کے لیے بھیجا اور ایک ایسے وقت میں بیرون ملک وسائل استعمال کیے جب کہ خود ملک کے اندر بجٹ کی صورت حال سخت تھی۔

صدر اوباما نے کہا کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو افغانستان میں ہمارے مشن کے بارے میں سخت سوالات اٹھا رہے ہیں۔ مگر ہمیں اپنے اہداف پر نظر رکھنا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ اس وقت جب کہ ہم بات کررہے ہیں، القاعدہ ہمارے خلاف سازشیں کررہی ہے اور اس کی قیادت افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں چھپی ہوئی ہے۔ صدر نے کہا کہ ہم القاعدہ کو منتشر کردیں گے، پارہ پارہ کردیں گے اور اسے شکست دے دیں گے۔

صدر اوباما نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں اپنے متوسط طبقے کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے بچوں کو تعلیم دینا ہوگی جو ان کا حق ہے۔ اور اپنے محنت کشوں کو مہارت دینا ہوگی جس کی عالمی معیشت میں مسابقت کے لیے انہیں ضرورت ہے۔

صدر نے کہا کہ امریکی معیشت کی ترقی کے لیے غیر ملکی تیل پر انحصار کم کرنا ہوگا اور ایسی نئی پیداوار سامنے لانی ہوگی جو ہمارے کاروباری شعبے سے جنم لے۔ انہوں نے کہا یہ ایک مشکل کام ہے مگر آئندہ دنوں میں ایک قوم کے طورپر ہمارا یہی مشن ہوگا اور صدر کی حیثیت سے یہ میری مرکزی ذمے داری بھی ہے۔

XS
SM
MD
LG