رسائی کے لنکس

’’جوہری ہتھیاروں سےامریکی عوام کوسب سے بڑا خطرہ‘‘


’’جوہری ہتھیاروں سےامریکی عوام کوسب سے بڑا خطرہ‘‘

’’جوہری ہتھیاروں سےامریکی عوام کوسب سے بڑا خطرہ‘‘

صدرباراک اوباما نے کہا کہ امریکہ افغانستان اور عراق میں دوجنگیں لڑرہا ہے لیکن اس کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ امریکی عوام کو سب سے بڑا خطرہ جوہری ہتھیاروں سے ہے۔

صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجوں میں اضافہ اور افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت دی جا رہی ہے تاکہ امن و امان کی بحالی کی کوششوں کی قیادت جولائی 2011 ء سے خود افغانوں کو منتقل کی جا سکے اور امریکی فوجی وطن واپسی کا عمل شروع کر سکیں۔

بدھ کو امریکی کانگریس سے اپنے پہلے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں انھوں نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں بہتر اندازحکمرانی، بدعنوانی میں کمی اور افغان مرد و خواتین کو برابر حقوق دینے کی کوششوں کی حمایت کرے گا۔

اوباما نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے امریکہ کے اتحادی اُس کے ساتھ ہیں اور وہ سب جمعرات کو لندن میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں اکٹھے ہو کر اس مشترکہ عزم کا اعادہ کریں گے۔

امریکی صدر نے کہا کہ آنے والے دن مشکل ہوں گے لیکن ” میں پُراعتماد ہوں ہم ضرور کامیاب ہونگے“۔ ان کے بقول امریکہ کو لاحق دہشت گردی کے خطرات پر ان کی انتظامیہ خاص توجہ دے رہی ہے اور گذشتہ سال ہلاک یا گرفتار کیے جانے والے القاعدہ کے جنگجووں کی تعداد 2008ء کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

اوباما نے کہا کہ ایک طرف تو القاعدہ کے خلاف لڑائی جاری ہے تو دوسری طرف ذمہ دارانہ انداز میں امریکہ عراق کا کنٹرول اس کے عوام کو منتقل کر رہا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران انھوں نے عراق جنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور صدر بننے کے بعد وہ اس وعدے کو پورا کر رہے ہیں کیونکہ اس سال اگست تک عراق میں موجود تمام امریکی افواج وطن واپس آجائیں گی۔

صدر باراک اوباما نے کہا کہ امریکہ افغانستان اور عراق میں دوجنگیں لڑرہا ہے لیکن اس کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ امریکی عوام کو سب سے بڑا خطرہ جوہری ہتھیاروں سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ سابق امریکی صدور جان ایف کینیڈی اور رونلڈ ریگن کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے وہ بھی جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے اور دنیا کو اِن خطرناک ہتھیاروں سے پاک کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔

اوباما نے کہا کہ اِن ہتھیاروں اور اِن کے لیے درکار لانچرز کے ذخیرے میں کمی کے معاہدے کے لیے امریکہ اور روس کے درمیان دو دہائیوں سے جاری بات چیت بھی مکمل ہونے والی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اپریل میں امریکہ میں نیوکلئیر سکیورٹی سے متعلق سربراہ کانفرنس میں 44 ممالک شرکت کریں گے جس کا مقصد آئندہ چار سالوں کے دوران دنیا میں جہاں کہیں بھی غیر محفوظ جوہری مواد موجود ہو اُن پر کنٹرول حاصل کیا جائے تاکہ یہ مواد کبھی بھی دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگے۔

صدر اوباما نے کہا کہ جو قومیں جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے پر مُصر ہیں انھیں باز رکھنے کے لیے سفارتی کوششوں نے امریکہ کے ہاتھ مضبوط کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اِسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ شمالی کوریا کو عالمی طور پر مزید تنہائی اور سخت پابندیوں کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ آج بین الاقوامی برادری زیادہ متحد اور ایران مزید تنہا ہو گیا ہے۔ اوباما نے متنبہ کیا کہ ایرانی رہنماؤں کی طرف سے جوہری معاہدوں سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے لیکن بلاشبہ انھیں اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

XS
SM
MD
LG