رسائی کے لنکس

جوہری سمجھوتا بم بنانے کی ایران کی راہ روکتا ہے: اوباما


فائل

فائل

مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ، ’پچھلے چند ماہ کےدوران حکومت ِاسرائیل کے ساتھ بات چیت ہوتی رہی ہے، جِس کا مقصد ہمارے سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا، ہماری انٹیلی جنس میں بہتری لانا اور خطے میں ایران کی جارحانہ حرفتوں کا انسداد ہے‘

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا جوہری سمجھوتا بم تشکیل دینے کی ایران کی راہ روک دیتا ہے۔

اُنھوں نے یہ بات امریکی یہودی کمیونٹی سے خطاب میں کہی، جس کا مقصد جوہری سمجھوتے پر برادری کی تشویش اور سوالات کا جواب دینا تھا۔

دو اہم یہودی تنظیموں نے ایک ’ویب کاسٹ‘ کا انعقاد کیا، جس میں مسٹر اوباما شریک تھے۔ یہی تنظیمیں اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو اور توانائی کے امریکی وزیر ارنیسٹ مونیز کے ساتھ ایسی ہی نشستیں منعقد کر چکی ہیں۔

ویب کاسٹ میں مسٹر اوباما نے کہا کہ، ’پچھلے چند ماہ کےدوران حکومت ِاسرائیل کے ساتھ بات چیت ہوتی رہی ہے، جِس کا مقصد ہمارے سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا، ہماری انٹیلی جنس میں بہتری لانا اور خطے میں ایران کی جارحانہ حرفتوں کا انسداد ہے‘۔
مسٹر اوباما نے کہا کہ ’سمجھوتے پر عمل درآمد سے ہم بہت محفوظ ہوجائیں گے۔ لیکن، اس سے ایران کے ساتھ ہمارے تمام مسائل حل نہیں ہوتے۔ اِس بات کا ہمیں علم ہے، اور اسرائیلی حکومت یہ جانتی ہے‘۔
صدر نے کہا کہ سمجھوتے میں ایسی کوئی بات نہیں جو دہشت گردی کی صورت میں ہمیں مؤثر جواب دینے سے روکے۔

مسٹر اوباما کے تعزیرات سے متعلق قلمدان کے سربراہ، جو امریکی محکمہٴخزانہ کے ایک اعلیٰ اہل کار ہیں اور اس معاہدے کی بات چیت میں شریک تھے، صدر کی ویب کاسٹ سے کچھ ہی دیر قبل جمعے کو سہ روزہ دورے پر اسرائیل پہنچے۔

حکومتِ اسرائیل اس سمجھوتے کی شدید مخالف ہے، جس میں ایران کو جوہری بم بنانے سے روکنے کے عوض بین الاقوامی تعزیرات میں نرمی دی جائے گی۔

امریکہ کےقائم مقام معاون وزیر برائے انسداد دہشت گردی اور مالی انٹیلی جنس، ایڈم زوبین جوہری راستہ روکنے کے اِس سمجھوتے کا دفاع کریں گے اور ایران کی حکومت کو یہ یقین دہانی کرائیں گے؛ جب کہ امریکی عوام ایران کی طرف سے دہشت گردی اور دوسروں کی جنگ لڑنے کے حربوں کی سرپرستی کے خلاف سخت مالی جرمانہ عائد کرنے پر تیار ہے۔

امریکی محکمہٴخزانہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ زوبین اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈور گولڈ؛ قومی سلامتی کے مشیر یوسی کوہن اور توانائی کے وزیر یوول اسٹائینز سے ملاقات کریں گے، جو ایران کے ساتھ سمجھوتے کے خلاف آواز بلند کرنے والی سرکردہ شخصیت ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سمجھوتا بہت زیادہ رعایتیں دیتا ہے اور بالآخر ایران کو اجازت ہوگی کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ہوجائے۔

چند ہی ہفتوں کے اندر، امریکی کانگریس سمجھوتےپر ووٹنگ کرے گی۔

XS
SM
MD
LG