رسائی کے لنکس

صدر اوباما کا خطاب: اوول آفس کا انتخاب کیوں

  • جمیل اختر

صدر اوباما اوول آفس میں

صدر اوباما اوول آفس میں

امریکی صدر براک اوباما خلیج میکسیکو کے دورے میں تیل کے اخراج سے ماحولیات اور ساحلی علاقوں کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد آج منگل کی رات اوول آفس سےقوم سے خطاب کررہے ہیں ۔ توقع ہے کہ اپنے اس خطاب میں وہ اس صورت حال پر قابو پانے اور نقصانات سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات اور کوششوں کو موضوع بنائیں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس خطاب کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ پہلی بار اوول آفس سےخطاب کررہے ہیں ۔ اس تقریر سے امریکی عوام پر یہ واضح ہوگا کہ صدر اور ان کی انتظامیہ کے پاس خلیج میکسیکو میں آبی حیات کو بچانے ، ساحلی علاقوں کی خوبصورتی برقرار رکھنے اور وہاں لوگوں کے روزگار کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے کیا منصوبے ہیں۔

خلیج میکسیکو میں برٹش پٹرولیم کے ایک زیر آب کنوئیں میں 20 اپریل کو دھماکے کے بعد سے تیل کا اخراج جاری ہے ، جسے روکنے کے لیے اب تک کی جانے والی تمام کوششیں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکیں ۔ تاہم کمپنی کو توقع ہے کہ تباہ شدہ کنوئیں کے قریب نئی کھدائی سے تیل کے اخراج مکمل طورپر رک جائے گا۔ تاہم اس کام میں مزید کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک لاکھوں گیلن خام تیل سمندر میں داخل ہوچکاہے اور وہ سمندری حیات اور آبی پرندوں کو نقصان پہنچانے کے بعد اب ریاست لوئی زیانا، مس سسی پی، الاباما اور فلوریڈا کے ساحلی علاقوں کو اپنا نشانہ بنا رہاہے۔جس سے سیاحت کی صنعت اور اس سے وابستہ کاروبار متاثر ہورہے ہیں۔

متاثرہ علاقوں کے اپنے دورے میں صدر نے ریاستی عہدے داروں کے ساتھ مقامی رہائشیوں اور کاروباروں سے منسلک افراد کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور ان کے مسائل سنے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر اپنے خطاب میں یہ وعدہ بھی کرسکتے ہیں کہ وہ کانگریس سے توانائی اور ماحولیات کی پالیسی بنانے کے لیے ایسی قانون سازی پر زور دیں گے جس سے قوم آنے والے کئی عشروں تک مستفید ہوتی رہے۔

صدر یہ تقریر ریاست مس سسی پی الاباما اور فلوریڈ ا کے دو روزہ دورے کے بعد کررہے ہیں۔ تیل کا سانحہ رونما ہونے کےبعدسے یہ خلیج کے متاثرہ علاقوں کا ان کا چوتھا اور سب سےنشانہ بننے والی ریاست لوئی زیانا کا پہلا دورہ تھا۔

صدر نے تیل کے اس سانحہ پر قوم کو اعتماد میں لینے کے لیے اوول آفس سے خطاب کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی صدور اوول آفس سے صرف انتہائی اہم موقعوں پر ہی خطاب کرتے ہیں۔صدر اوباما پہلی بار اوول آفس سے خطاب کررہے ہیں۔ انہوں نے ملک کی تاریخ میں کئی عشروں کی شدید ترین کسادبازاری، مالیاتی بحران اور بدترین بے روزگاری کے دوران بھی تقریر کے لیے اوول آفس کا انتخاب نہیں کیا۔ حتی ٰ کہ انہوں نے صحت عامہ سے متعلق اپنے اصلاحاتی پروگرام پر بھی اوول آفس سے تقریر نہیں کی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اوول آفس سے کی جانے والی تقریریں عام طورپر سٹیٹ آف یونین خطاب کی طرح لمبی نہیں ہوتیں ، اور صدر یہ خطاب کسی بہت ہی اہم موقع پر قوم کو اعتماد میں لینے کے لیے کرتے ہیں، جیسے 11 ستمبر 2001ء کی شام جارج دبلیو بش نے اوول آفس سے خطاب کیا تھا۔ اسی طرح صدر رونلڈ نکسن نے خلائی شٹل چیلنجر کی تباہی ، صدر جان ایف کینڈی نے کیوبا کے میزائل کرائسس اور صدر رچرڈ نکسن نے اپنے استعفی کے اعلان کے لیے اوول آفس کوچنا تھا۔ جس سے ان کی منگل کی تقریر اور اس کے مندرجات کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی پریس سیکرٹری بل برٹن کا کہنا ہے کہ صدر اپنی تقریر میں تیل کا اخراج روکنے کے لیے اب تک کیے جانے والے اقدامات اور اس سے ہونے والے نقصان کو موضوع بنائیں گے ، اور وہ تیل کے اخراج پر قابو پانے کی ہرممکن کوشش کرنے اورمتاثرہ افراد کے نقصانات کی تلافی کی بھی یقین دہانی کرائیں گے۔

XS
SM
MD
LG