رسائی کے لنکس

صدر اوباما کا خطاب، افغانستان سے فوجیو ں کا متوقع انخلا

  • ڈین رابسن
  • مدثرہ منظر

صدر اوباما (فائل فوٹو)

صدر اوباما (فائل فوٹو)

’وائس آف امریکہ‘ کی اردو سروس 22جون رات 8بجے سے 10بجے تک خصوصی نشریات میں صدر براک اوباما کا قوم سے خطاب براہِ راست نشر کرے گی۔ یہ نشریات معمول کے نیوز شو کے ساتھ رات 10 بجے ختم ہوں گی۔ افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے بارے میں صدر کے خطاب کا فوری اردو ترجمہ بھی نشر کیا جائے گا۔ یہ نشریات پاکستان میں صبح 5 بجے سے 7بجے اور بھارت میں ساڑھے 5سے ساڑھے 7بجے تک سنی جاسکتی ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما بدھ کی شب آٹھ بجے قوم سے خطاب میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے لیے اپنے منصوبے پر عمل درآمد کی تفصیل بیان کریں گے۔

وہاؤٹ ہاؤس میں ’وائس آف امریکہ ‘کے سینئر نامہ نگار ڈین رابسن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وہ 18ماہ پہلے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کر رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ سکیورٹی کی ذمہ داری افغان فورسز کو منتقل کرنے کی جانب پیش قدمی کا بھی اظہار ہے۔

صدر کے اعلان سے پہلے وائٹ ہاؤس نے ایک مرتبہ پھر زور دے کر کہا ہے کہ وہ صدر اوباما کی دسمبر 2009ء کی اُس تقریر میں جو اُنھوں نے ویسٹ پوائنٹ نیو یارک میں امریکی فوجی اکیڈمی میں کی تھی، بیان کی گئی حکمتِ عملی میں رد و بدل میں شامل نہیں ہوگا۔ اُس تقریر میں مسٹر اوباما نے ،خود اُن کے الفاظ میں، ’ اِس جنگ کو کامیابی سے اختتام تک لانے کی حکمتِ عملی اور طالبان کی پیش قدمی روکنے کے لیے‘، 30000اضافی فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اب بدھ کے روز صدر فوجیوں کی واپسی کے لیے سنہ 2009 میں کیے گئے وعدے کا اعادہ کریں گے۔

مختلف خبروں میں انتظامیہ کے عہدے داروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کم از کم 5000فوجی جو ایک برگیڈ کے برابر ہیں آئندہ مہینوں میں واپس آنا شروع کردیں گے اور ایک اوربرگیڈ سال کے آخر تک واپس آجائے گا۔

ذرائع ابلاغ میں قیاس آرائیوںٕ کے خلاف خبردار کرتے ہوئےوائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری جے کارنی نے کہا کہ مسٹر اوباما نے توجہ تین امور پر مرکوز رکھی ہے: القاعدہ کو منتشر اور درہم برہم کرنا اور شکست دینا، طالبان کی پیش قدمی ختم کرنا اور افغانستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنا۔

کارنی نے کہا کہ، یہ مقاصد پورے ہورہے ہیں۔اِن مقاصد کے سلسلے میں ہم نے بڑی حد تک اور اہم کامیابی حاصل کی ہے اور صدر اِس کی پرکھ کے عمل میں بڑی حد تک شریک رہے ہیں۔ اگرچہ ہم منزیل تک نہیں پہنچے مگر یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ ابتدا میں مقاصد کیا تھے اور کیا نہیں تھے۔ اور صدر ایک مرتبہ پھر اِس کی وضاحت کریں گے۔

مسٹر اوباما سنہ 2014تک سکیورٹی کی ذمہ داریاں مکمل طور پر افغان حکومت کی فورسز کو منتقل کرنے کے لیے امریکہ اور نیٹو کے عزم کا اعادہ کریں گے۔ وہ اور فوجی کمانڈر زور دیتے رہے ہیں کہ واپسی کی رفتار کا انحصار زمینی حالات پر ہوگا۔

ہوسکتا ہے صدر ملک میں بڑھتے ہوئے جنگ مخالف جذبات میں اضافے پر بھی بات کریں۔ یہ جذبہ رائے عامہ کے جائزوں اور اراکینِ کانگریس کے اختیار کیے گئے مؤقف میں جھلکتے ہیں۔

منگل کے روز صدر اوباما سے ملاقات سے پہلے سبک دوش ہونے والے امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مسٹر اوباما کو فیصلہ کرتے ہوئے افغانستان میں زمینی صورتِ حال کے علاوہ جنگ کی لاگت پر امریکی عوام کی تشویش کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔

رابرٹ گیٹس کے الفاظ میں: ’یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ کانگریس میں افغانستان میں جنگ اور ہماری ذمہ داری کی سطح پر بے شمار تحفظات ہیں۔ ایسے امریکی لوگوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے جو عشرے سے جاری جنگ سے تنگ آچکے ہیں۔‘

افغانستان سے فوجیوں کی واپسی کے ایک روز بعد جمعرات کو صدر اوباما پورٹ ڈرم نیو یارک میں امریکی فوجی اڈے کا دورہ کریں گے جہاں دسواں ماؤنٹ ڈویژن موجود ہے جس کی بڑی تعداد تسلسل سے افغانستان اور عراق میں تعینات کی جاتی رہی ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG