رسائی کے لنکس

’تیل کے تمام امریکی ذخائر کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے باوجود بھی امریکہ کو اپنی طلب پوری کرنے کے لیے بیرونِ ملک سے درآمد کیے جانے والے تیل کی ضرورت پڑے گی‘

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اپنے سیاسی مخالفین پہ کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ توانائی کی ایسی پسماندہ حکمتِ عملی تجویز کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں امریکہ ان کے بقول دنیا کے رحم و کرم پر ہوگا۔

جمعرات کو واشنگٹن کے نزدیک ایک کمیونٹی کالج کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ تیل کے تمام امریکی ذخائر کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے باوجود بھی امریکہ کو اپنی طلب پوری کرنے کے لیے بیرونِ ملک سے درآمد کیے جانے والے تیل کی ضرورت پڑے گی۔

ان کے بقول، "ہم دنیا کے دیگر علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کے ہاتھوں یرغمال نہیں بن سکتے۔ ہمیں اپنی منزل خود طے کرنا ہوگی"۔

واضح رہے کہ صدر اوباما کے مقابلے پر ری پبلکن جماعت کا صدارتی امیدوار بننے کے خواہاں رہنما امریکی صدر پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے امریکہ کے تیل اور گیس کے داخلی ذخائر کو ترقی دینے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے۔

لیکن اس تنقید کے جواب میں صدر اوباما نے خبردار کیا ہے کہ اگر "امریکہ کا ایک ایک کونا بھی تیل کی تلاش کے لیے کھود ڈالا جائے تب بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا"۔

امریکی صدر نے اپنی توانائی پالیسی پر مخالفین کی جانب سے ہونے والی تنقید کا ایک ایسے وقت میں جواب دیا ہے جب امریکیوں کی ایک بڑی تعداد گیس کی قیمتوں میں اضافے سے نالاں ہے۔

اپنے خطاب میں صدر اوباما نے بڑی آئل کمپنیوں کو دیے جانے والے بھاری زرِ تلافی کے خاتمے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو ہوا اور سورج سمیت متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین اور بھارت جیسے ممالک میں بڑھتی ہوئی ترقی اور گاڑیوں کی طلب اور مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی بے چینی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

'واشنگٹن پوسٹ' اور 'اے بی سی نیوز' کی جانب سے حال ہی میں کرائے گئے ایک مشترکہ جائزے کے مطابق گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث صدر اوباما کی توانائی پالیسی کے بارے میں امریکی رائے دہندگان کی ناپسندیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

سروے کے مطابق دو تہائی امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ توانائی کے شعبے سے متعلق صدر اوباما کے اقدامات سے متفق نہیں جب کہ امریکیوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے سے ان پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG