رسائی کے لنکس

اگست سے افغانوں کو سکیورٹی کی ذمہ داریاں منتقل کرنے کا آغاز

  • ب

اگست سے افغانوں کو سکیورٹی کی ذمہ داریاں منتقل کرنے کا آغاز

اگست سے افغانوں کو سکیورٹی کی ذمہ داریاں منتقل کرنے کا آغاز

اس ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے پہلے طالبان شدت پسندوں کے حملوں میں غیر معمولی تیزی افغان حکومت اور اتحادی ممالک دونوں کے لیے باعث پریشانی ہے ۔ انتخابات میں حصہ لینے والو ں کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے عسکریت پسندوں نے حالیہ دنوں میں افغان اہلکاروں اور اُمیدواروں پر بھی ہلاکت خیز حملے کیے ہیں

صدر براک اوباما نے اس عزم کا اظہا ر کیا ہے کہ امریکی افواج آئندہ سال اگست سے افغانستان میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغانوں کو منتقل کرنا شروع کردیں گی۔ لیکن اُنھوں نے ملک سے امریکی افواج کے انخلاء کے لیے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ۔

منگل کو وائٹ ہاؤس سے ٹیلی ویژن پر قوم سے اپنے خطاب میں اُنھوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی فوجوں میں کمی کی رفتار کا انحصار زمینی حقائق پر ہو گا۔

عراق جنگ کے خاتمے کے اعلان کے لیے کی گئی اپنی تقریر میں صدر اوباما نے کہا کہ اب اِ ن وسائل کو افغانستان میں جاری جنگ پر خرچ کیا جا سکے گا۔ انھوں نے کہا کہ طالبان عسکریت پسندوں کو شکست دینے کے لیے ایک لاکھ امریکی فوجی افغانستان میں جنگ لڑ رہے ہیں اور یہ افواج ایک” محدود مد ت‘‘ تک ملک میں تعینات رہیں گی۔

صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ نے سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغانوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ ایک ”لامحدود جنگ“ نہ تو امریکہ اور نہ ہی افغانستان کے مفاد میں ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں حزب اختلاف کے لیڈر جان بوئنر نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے امریکہ کی حکمتِ عملی کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے صدر اوباما کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کو نبھانے کی امریکی صدر کی کوششیں” زمینی حقائق کے برعکس قبل ازوقت فتوحات اور افواج کے انخلاء“ کی تاریخوں کے اعلانات کا باعث بن سکتی ہیں۔

نیٹو افواج کے مطابق منگل کو عسکریت پسندوں کے مختلف حملوں میں اُس کے چھ فوجی ہلا ک ہو گئے تھے جس کے بعد گذشتہ جمعہ سے اب تک افغانستان میں ہلاک ہونے والے اتحادی فوجیوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے۔

اس ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے پہلے طالبان شدت پسندوں کے حملوں میں غیر معمولی تیزی افغان حکومت اور اتحادی ممالک دونوں کے لیے باعث پریشانی ہے۔ انتخابات میں حصہ لینے والو ں کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے عسکریت پسندوں نے حالیہ دنوں میں افغان اہلکاروں اور اُمیدواروں پر بھی ہلاکت خیز حملے کیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG