رسائی کے لنکس

ایسے میں جب افغانستان سے کچھ فوجیوں کے انخلا کی تیاریاں ہو رہی ہیں، امریکہ اِس بات کی کوشش کررہا ہے کہ افغانستان میں شہری ہلاکتوں پر جاری تناؤ میں کمی لائی جائے۔

امریکی صدر براک اوباما نے سولین ہلاکتوں پر اپنے افسوس کا اظہار کیا ہے جس کا حالیہ واقعہ صوبہٴ ہلمند میں سامنے آیا۔ اُنھوں نے یہ بات بدھ کو افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ٹیلی کانفرنس میں کہی۔

مسٹر کرزئی کی طرف سے مشتبہ امریکی فضائی حملوں پر تنقید میں اضافہ ہوگیا ہے جِن میں اکثر شہری ہلاکت کا الزام لگایا جاتا ہے۔ گذشتہ ماہ اُنھوں نے کہا تھا کہ اِس طرح کے مزید حملے اب برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

دونوں راہنماؤں کے مابین بات چیت اُس وقت ہورہی ہے جب کہ امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ میں افغانستان میں امریکہ کی دس برس کی کاوش پر تنقید کی گئی ہے۔

سینیٹ کی امورِ خارجہ کی کمیٹی نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے تقریباً 19ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکہ کوئی خاص پیش رفت نہیں دکھا سکا، اور مزید خبردار کیا کہ جب 2014ء میں ملک سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہوجائے گا، افغانستان میں تعمیر ِ نو کی امریکی کوششوں کے آثار باقی نہیں رہ پائیں گے۔

صدارتی ترجمان جے کارنی نے کہا ہے کہ امریکہ اِس رپورٹ کا خیر مقدم کرتا ہے تاہم اُس میں پیش کیے گئے تمام استدلال کی توثیق نہیں کرتا۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکی کوششوں کے باعث طالبان کا اثر و نفوذ ٹوٹ پھوٹ گیا ہے۔

صدر اوباما غور کر رہے ہیں کہ افغانستان میں تعینات 100000کے قریب فوجوں میں کتنی فوجوں کو واپس بلایا جائے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ اِس بارے میں وہ جلد ایک اعلان کریں گے۔

سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کے سربراہ، کارل لیون نے بدھ کو صدر سے مطالبہ کیا کہ سال کے آخر تک کم از کم 15000فوجیں واپس بلالی جائیں۔

XS
SM
MD
LG