رسائی کے لنکس

افغانستان ، پاکستان کے لیے قومی سلامتی کی ٹیم سے اوباما کی ملاقات


صدر اومابا

صدر اومابا

امریکی صدر براک اوباما نے افغانستان میں امریکی فوج کی کوششوں اور پاکستان کی صورتِ حال پر غور کرنے کے لیے جمعے کے روز اپنی قومی سلامتی کی ٹیم سے ملاقات کی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گِبز نےکہا ہے کہ اس میٹنگ کے شرکا نے اس بارے میں غوروخوض کیا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کو زیادہ موثراور باصلاحیت بنانے میں مدد کے لیے نیٹو کے اتحادیوں کو فوجی تربیت دینے والے مزید ماہرین فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

اِسی دران ، افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی فوجوں کے کمانڈر امریکی جنرل سٹینلی میک کِرسٹل نے وِڈیو کانفرنس کے ذریعےمیٹنگ میں شرکت کرتے ہوئےطالبان کے ایک سابق مضبوط ٹھکانے کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائى میں مسلسل پیش رفت کی نشاندہی کی۔

گِبز نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ مارجہ میں فوجی کارروائى اب بیشتر ‘ صفایا کرنے کے مرحلے’ میں ہے۔اور اب زیادہ توجہ افغانستان کے اس جنوبی شہر میں ایک اچھی کارکردگی والی حکومت قائم کرنے پر ہے۔

گِبز نے کہا کہ صدر نے پاکستان میں امریکہ کی سفیر این پَیٹر سن سے اُس ملک میں جنگجو عناصر کے خلاف سیکورٹی کی کارروائى کی تازہ ترین صورتِ حال کی تفصیلات معلوم کیں۔ جس کے بارے میں اُنہوں نے کہا کہ کارروائى تقریباً ایک سال سے ایک ‘بے مثال سطح’ پر جاری ہے۔

وائٹ ہاؤس کی اس میٹنگ میں وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن اور وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے بھی شرکت کی۔

وزیرِ دفاع گیٹس نے اس ہفتے کے شروع میں افغانستان کا دورہ کیا تھا، جہاں اُنوٹں نے کہا تھا کہ افغان فوج اور بین الاقوامی فوجوں کو طالبان کے خلاف لڑائى میں آگے چل کر زیادہ سخت معرکوں سے پالا پڑے گا۔

جب سے مسٹر اوباما نے افغانستان کو مزید 30 ہزار امریکی فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ گیٹس کااُس ملک کا پہلا دورہ تھا۔

XS
SM
MD
LG