رسائی کے لنکس

منگل کی اپنی تقریر میں صدر اوباما نے یہ واضح کیا کہ ہمارا مقصد اس ملک کی امریکی تصور کے مطابق تعمیر نہیں ہے اور نہ ہی ہم یہاں طالبان کی ہرنشانی مٹانا چاہتے ہیں۔

ایبٹ آباد میں امریکی اسپیشل فورسز کے ایک خفیہ مشن میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا ایک سال مکمل ہونے پر صدر اوباما نے افغانستان کا ایک مختصر اور غیر اعلانیہ دورہ کیا۔

اپنے اس دورے میں انہوں نے افغانستان کے ساتھ ایک سٹرٹیجک معاہدے پر دستخط کیے اور اس انتخابی سال کے موقع پر امریکی عوام کو یہ پیغام دیا کہ افغان جنگ اب اپنے اختتام کو پہنچنے والی ہے۔

منگل کو دیر گئے بلگرام ایئر بیس سے امریکیوں سے اپنے براہ راست خطاب میں مسٹر اوباما نے افغانستان سے فوجی انخلا ءکی ایک بار پھر یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ امریکی لڑاکا افواج سیکیورٹی کا مکمل کنٹرول افغانستان کے سپرد کرنے کے بعد 2014ء تک وطن واپس لوٹ جائیں گی۔

صدر نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں انسداد دہشت گردی کی کوششوںمیں مدد اور افغان فوجیوں کی تربیت کا کام جاری رکھے گا لیکن وہ یہاں اپنے مستقل اڈے قائم نہیں کرے گا۔

ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب سے کئی گھنٹے قبل مسٹر اوباما نے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ سٹرٹیجک شراکت داری کے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس میں 2014 ء کے بعد افغانستان میں امریکی کردار کا خاکہ پیش کیا گیاہے۔

منگل کی اپنی تقریر میں صدر اوباما نے یہ واضح کیا کہ ہمارا مقصد اس ملک کی امریکی تصور کے مطابق تعمیر نہیں ہے اور نہ ہی ہم یہاں طالبان کی ہرنشانی مٹانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف القاعدہ کو نیست و نابود کرنا ہے اور اس کے لیے مزید کئی سال، بہت سے ڈالر اور مزید امریکی جانوں کی قربانی کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

امریکہ اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے سٹرٹیجک معاہدے میں امریکہ نے کسی مخصوص فوجی موجودگی کا وعدہ نہیں کیا، لیکن آخری امریکی فوجی دستے کے انخلاء کے بعد کم ازکم دس سال کے لیے امریکی مدد کا یقین دلایا گیا ہے۔

اس وقت افغانستان میں تقریباً 90 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں ۔ ان میں سے تقریباً 33 ہزار فوجیوں کو اس سال ستمبر تک واپس بلا لیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG