رسائی کے لنکس

عہدہ صدارت کے دوران چوتھی بار، صدر اوباما کا دورہٴ افریقہ


فائل

فائل

سرکاری ذرائع کے مطابق، صدر اوباما یہ دورہ گذشتہ موسم سرما کے دوران واشنگٹن میں ’امریکہ افریقی سربراہ اجلاس‘ میں حاصل کی گئی پیش رفت کو مزید آگے بڑھانے کے حوالے سے کر رہے ہیں

صدر براک اوباما ملکی سربراہ کے طور پر چوتھی بار افریقہ کے دورے پر روانہ ہوں گے، جہاں وہ اپنے آبائی ملک کینیا کا دورہ، نیروبی میں عالمی کاروباری سربراہ اجلاس میں شرکت اور ایتھیوپیا میں افریقی یونین کے علاقائی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

امریکی معاون وزیر برائے افریقی امور، لَنڈا تھومس گرین فیلڈ، دورے کے دوران، صدر کے ہمراہ ہوں گی۔

اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کے شو ’اسٹریٹ ٹاک افریقہ‘ میں گفتگو کی۔ پال سیسکو نے اپنی رپورٹ میں صدر اوباما کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’بحیثیت امریکی صدر اور ایک قابل فخر امریکی، میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔ ساتھ ہی، میں بحیثیتِ ایک افریقی شخص کے بیٹے کے، آپ کے سامنے ہوں‘۔

صدر اوباما یہ دورہ گذشتہ موسم سرما کے دوران واشنگٹن میں ’امریکہ افریقی سربراہ اجلاس‘ میں حاصل کی گئی پیش رفت کو مزید آگے بڑھانے کے حوالے سے کر رہے ہیں۔
وہ جولائی 25 اور 26 کو کینیا کے شہر نیروبی میں عالمی ’انٹریپرینیورشپ سمٹ‘ اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں سے وہ ایتھیوپیا کے دارالحکومت، ادیس ابابا جائیں گے۔

’اسٹریٹ ٹاک افریقہ‘ کے میزبان، شکا علی کے بقول، ’ایسے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ صدر کو ادیس ابابا نہیں جانا چاہیئے۔ کیوں؟‘


امریکی معاون وزیر برائے افریقی امور، لِنڈا ٹھومس گرین فیلڈ کے الفاظ میں: ’ہمارے لیے یہ ایک اہم مقام ہے۔۔۔ اس سے ایتھیوپیا کے عوام اور حکومت کو یہ پیغام جائے گا کہ دہشت گردی سے لڑائی کے سلسلے میں ہم اُن کی کوششوں کی حمایت کرنے میں پُرعزم ہیں۔ ساتھ ہی، صدر کی جانب سے یہ پیغام دیا جانا انسانی حقوق، آزادی صحافت کا بول بالا کرنے کے لیے اور اس بات کا اظہار کرنے کے لیے کہ جب کبھی انسانی حقوق کا معاملہ سامنے ہوگا اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے، ہماری حکومت ایتھیوپیا کی حکومت کی کوششوں میں مدد دے گی‘۔

بتایا جاتا ہے کہ امریکی صدر ایتھیوپیا کی قیادت سے ملاقات کریں گے، افریقی یونین کے صدر دفتر کا دورہ کریں گے اور اُن کی قیادت سے خطاب کریں گے۔

اُن کا افریقہ کا یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب جنوبی سوڈان کے صدر سالوا کیر اور حزب مخالف کے رہنما ریک مچار کی افواج کے درمیان لڑائی میں تیزی آچکی ہے۔

لِنڈا تھومس گرین فیلڈ کے بقول، اس کا حل امن میں مضمر ہے۔ تاہم، کوئی بھی اپنے اہداف کو چھوڑ کر اس سمت میں آگے بڑھنے پر تیار نہیں ہے۔

ادھر، برونڈی میں صدر پیرے کرونزیزا کے متنازع تیسری مدت کے لیے انتخاب لڑنے کے حوالے سے، اور ساتھ ہی، روانڈا میں صدر پال کگامے کی جانب سے ایسی ہی کوشش کے بارے میں، اُنھوں نے امریکی مؤقف کی حدود و قیود کا ذکر کیا۔

اس دورے کے دوران، صدر فروغ پاتے ہوئے افریقی براعظم اور ساتھ ہی، اپنے افریقی ہم منصبوں کے ساتھ عمل داری کے معیار میں بہتری لانے سے متعلق بات چیت کریں گے۔

XS
SM
MD
LG