رسائی کے لنکس

الاسکا والے موسمیاتی تبدیلی سے بُری طرح متاثر: اوباما


فائل

فائل

مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ الاسکا کے مکینوں کو زوردار سمندری طوفانوں سے واسطہ پڑ رہا ہے، ایسے میں جب بحر کی جمی ہوئی برف پگل رہی ہے، جنگل کی آگ کے واقعات میں تیزی آچکی ہے، گلیشئر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور دنیا کے ساحلی خطے میں کٹاؤ کی رفتار بڑھ رہی ہے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ الاسکا کے باسیوں نے پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات محسوس کرنا شروع کردیے ہیں، جو امریکہ کی دور افتادہ، وسیع و اریض شمال مغربی ریاست ہے، جس کا ایک حصہ ’آرکٹک سرکل‘ میں واقع ہے۔

صدر اوباما پیر کے روز سے الاسکا کے سہ روزہ دورے کا آغاز کرنے والے ہیں۔

اپنی ہفتہ وار تقریر میں، مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ الاسکا کے مکینوں کو زوردار سمندری طوفانوں سے واسطہ پڑ رہا ہے، ایسے میں جب بحر کی جمی ہوئی برف پگل رہی ہے، جنگل کی آگ کے واقعات میں تیزی آچکی ہے، گلیشئر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور دنیا کے ساحلی خطے میں کٹاؤ کی رفتار بڑھ رہی ہے۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ اگر امریکی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقدام نہیں کرتے تو رواں صدر کے اواخر تک الاسکا کا درجہٴحرارت چھ سے 12 ڈگری فرنہائیٹ (3.3اور6.7 سیلشئس) تک بڑھ جائے گا، جس سے متعدد صنعتیں متاثر ہوں گی۔

صدر پیر کے روز ’سٹی آف اینکریج‘ میں موسمیاتی تبدیلی پر ایک اجلاس میں شرکت کریں گے، جس میں دیگر آرکٹک ممالک اور الاسکا کے باسیوں کے نمائندے شریک ہوں گے، جو موسم کی تبدیلی سے براہ راست متاثر ہیں، جس کا تیل اور مچھلی کے شکار کی صنعتوں پر بے انتہا دارومدار ہے۔
الاسکا کا یہ اجلاس پیرس میں موسمیاتی تبدیلی پر اقدام متحدہ کے اجلاس سے تین ماہ قبل منعقد ہو رہا ہے۔

الاسکا میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقدام پر مسٹر اوباما کو جہاں سراہا گیا ہے وہاں اُن پر نکتہ چینی بھی کی گئی ہے۔ گذشتہ ہفتے، اُنھوں نے بحرِ چکچی میں تیل کی تلاش کے ایک منصوبے کی منظوری دی ہے، جس بات سے اُن خیالات کی حمایت ہوتی ہے جو الاسکا میں تیل کی تلاش کے حامی ہیں۔ تاہم، ماحولیات کے حامی افراد نے اس اقدام پر نکتہ چینی کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ الاسکا میں ڈرلنگ کے کام سے ماحول متاثر ہوگا، کیونکہ اب بھی بہت حد تک ایندھن کے روایتی ذرائع پر انحصار کیا جاتا ہے۔

گذشتہ برس کے آخر میں مسٹر اوباما نے الاسکا کی ساحلی زمین اور خطے کے لاکھوں ایکڑوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کا اعلان کیا تھا، جب کہ اُنھوں نے الاسکا کے ’برسٹول بے‘ میں تیل کی تلاش کو روک دیا تھا۔ دونوں اطراف کے فریق نے اُنھیں ’منافق‘ قرار دیا ہے، چونکہ، بقول اُن کے، لگتا یوں ہے کہ وہ متضاد پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔

تاہم، صدر نے ہفتے کے روز کہا کہ جب تک امریکہ روایتی ایندھن کے وسائل پر انحصار جاری رکھے گا، ہمیں داخلی طور پر پیدا ہونے والے وسائل کو استعمال کرنا چاہیئے نہ کہ غیر ملکوں سے درآمد کردہ ذرائع پر انحصار کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG