رسائی کے لنکس

صدر اوباما کی روسی ہم منصب سے ملاقات


روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکہ کے صدر براک اوباما کے درمیان پیر کو چین کے شہر ہانگزو میں ملاقات میں شام اور یوکرین کی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔

خبر رساں ادارے رائٹیرز کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات ’جی 20‘ سربراہ اجلاس کے موقع پر ہوئی۔

دوسری طرف وائٹ ہاؤس کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے بارے میں مزید تفصیل بعد میں جاری کی جائیں گی۔

صدر اوباما کی اپنے روسی ہم منصب پوٹن سے ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی، جب امریکہ اور روس شام کی طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے کسی سمجھوتے پر اتفاق رائے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

تاہم ابھی تک دونوں ملکوں کے اعلیٰ سفارت کار کسی بھی سمجھوتے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کا ایک اور ممکنہ موضوع یوکرین کی صورت حال تھی۔ امریکہ کو روس اور یوکرین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ہے۔

شام میں تشدد کو روکنے کے لیے دونوں ملکوں کے سفارت کاروں کے درمیان ہونے والے تازہ ترین مذکرات بغیر کسی سمجھوتے کے ختم ہو گئے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے درمیان ہونے والے ملاقات میں بعض اختلافی اُمور حل نہیں ہو سکے۔

امریکہ کے عہدیدار نے یہ بات نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر بتائی کیونکہ وہ اس بابت بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔

سفارت کار شامی صدر بشار الاسد کی حکومت اور اعتدال پسند باغیوں کے درمیان عارضی جنگ بندی کے کے لیے کوشاں ہیں۔

اگر عارضی جنگ بندی کا سمجھوتہ طے پا جاتا ہے تو اس لڑائی کے سبب بہت سے علاقوں میں پھنسے ہزاروں کی تعداد میں عام شہریوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس کا اںحصار شام میں برسر پیکار انتہاپسندوں کے خلاف امریکہ اور روس کے باہمی فوجی اشتراک عمل پر ہے جس کا امکان تاحال بہت کم نظر آتا ہے۔

XS
SM
MD
LG