رسائی کے لنکس

افغانستان میں امریکی فوجیوں کے اختیارات میں اضافے کی منظوری


افغانستان میں تعینات امریکی فوجی (فائل فوٹو)

افغانستان میں تعینات امریکی فوجی (فائل فوٹو)

اس نئی پالیسی کے تحت افغانستان میں امریکی فوجی کمانڈر جنرل جان نکولسن یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ کب کب امریکی فوجی روایتی افغان فورسز کے ساتھ میدان عمل میں جا سکیں گے۔

صدر براک اوباما نے افغانستان میں امریکی افواج کو انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے مزید اختیارات کی منظوری دی ہے جس سے انھیں افغان سکیورٹی فورسز کی معاونت میں آسانی ہو سکے گی۔

تاہم حکام کے مطابق نئے اختیارات کا استعمال کسی بھی کارروائی کی اہمیت اور انسداد دہشت گردی کی جنگ میں اس کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جا سکے گا۔

اس کے تحت خاص طور پر امریکی فضائی کارروائیوں میں اضافہ کیا جا سکے گا۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان میں خصوصاً جنوبی علاقوں میں طالبان عسکریت پسندوں نے اپنی پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ کیا اور افغان سکیورٹی فورسز کو ان کے خلاف مزاحمت کا سامنا ہے۔

نئے اختیارات تفویض کے جانے کے باوجود افغانستان میں موجود 9800 امریکی فوجی براہ راست لڑائی میں حصہ نہیں لیں گے۔

اس نئی پالیسی کے تحت افغانستان میں امریکی فوجی کمانڈر جنرل جان نکولسن یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ کب کب امریکی فوجی روایتی افغان فورسز کے ساتھ میدان عمل میں جا سکیں گے۔

اس سے قبل شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی فوج کے پاس محدود اختیارات تھے۔

2014ء کے اواخر میں تمام لڑاکا بین الاقوامی افواج اپنا مشن مکمل ہونے پر وطن واپس لوٹ چکی ہیں لیکن ایک دوطرفہ سکیورٹی معاہدے کے تحت 12000 سے زائد غیر ملکی فوجی جن میں اکثریت امریکی فوجیوں کی ہے، جنگ سے تباہ حال اس ملک میں تعینات رہے گی۔

صدر اوباما یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد میں بتدریج کمی کریں گے لیکن دفاعی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں ایسا کرنا درست نہیں ہو گا۔

گزشتہ ہفتے ہی سابق جنرلز اور سینیئر سفارتکاروں کے ایک گروپ نے صدر اوباما پر زور دیا تھا کہ وہ فوج کی تخفیف کے منصوبے پر عمل نہ کریں کیونکہ اس سے افغان طالبان کے خلاف جنگ متاثر ہو سکتی ہے۔

گزشتہ ماہ ہی افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کو افغان سرحد کے قریب ایک پاکستانی علاقے میں امریکی ڈرون حملے سے نشانہ بنایا گیا تھا اور اس کی ہلاکت کو امریکہ نے طالبان کے لیے دھچکہ قرار دیا تھا۔

تاہم طالبان کے نئے مقرر ہونے والے سربراہ ملا ہبت اللہ نے افغانستان میں اپنے شدت پسندوں کی کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افغان مصالحتی عمل میں شرکت کا ارادہ نہیں رکھتے۔

XS
SM
MD
LG