رسائی کے لنکس

صدر اوبا ما کے بارے میں عربوں کی رائے

  • ڈیبرا بلاک

رائے عامہ کے ایک نئے جائزے میں کہا گیا ہے کہ بیشتر عرب صدر براک اوباما کو پسند نہیں کرتے اور مشرق ِ وسطیٰ میں امریکہ کی پالیسیوں سے ان کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ جائزے سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ عربوں کا خیال ہےکہ ایران وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانےو الے ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اسے اپنے نیوکلیئر پروگرام کا حق حاصل ہے۔

یونیورسٹی آف میری لینڈ اور زوگ بائے انٹرنیشنل کے اس جائزے میں ان امور پر عوام کی رائے معلوم کی گئی ہے جن کاتعلق مشرقِ وسطیٰ میں عربوں سے ہے ۔گذشتہ چند برسوں سے ہر سال یہ سروے مصر، اردن، لبنان، مراکش، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کیا جاتا رہا ہے۔ اس سروے میں ہر ملک کے الگ الگ نتائج ظاہر نہیں کیے جاتے۔

اگرچہ امریکہ کے بارے میں عربوں کی رائے بدستور خراب ہے لیکن سروے میں شامل 20 فیصد لوگوں نے کہا کہ اسلام کے بارے میں امریکہ کے رویے پر وہ خوش ہیں۔

گذشتہ سال صدر اوباما کی مقبولیت کی شرح اونچی تھی کیوں کہ عرب ان کی مشرقِ وسطیٰ کی پالیسیوں کے بارے میں پُر امید تھے ۔لیکن اس سال تقریباً دوتہائی افراد نے کہا کہ وہ صدر کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔

کین پولاک واشنگٹن کے بروکنگز انسٹی ٹیوشن میں مشرق وسطیٰ کے ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’بہت سے عربوں کو سخت مایوسی ہوئی ہے کہ اوباما انتظامیہ نے بظاہر اسرائیلی فلسطینی امن کے عمل کے لیے کچھ نہیں کیا ہے ۔ لوگ بہت مایوس ہیں کہ صدر نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے لیے کوئی بڑا اقدام کریں گے۔ عرب محسوس کرتے ہیں کہ صدر نے اپنا یہ وعدہ پورا نہیں کیا ہے ‘‘۔

رائے عامہ کا یہ جائزہ یونیورسٹی کے پروفیسر شبلی تلہامی کی سربراہی میں کیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں’’تقریباً 27 فیصد لوگ عراق کا نام لیتے ہیں، جس کے بارے میں وہ کسی قدر نا خوش ہیں کیوں کہ وہاں عدم استحکام ہے اور حکومت کا اختیار نہیں چلتا۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ بہر حال اس بات پر خوش ہیں کہ امریکہ عراق سے نکل رہا ہے ۔ تمام جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب عوام کی رائے یہ ہے کہ امریکی فوجوں کو عراق سے چلا جانا چاہیئے ۔‘‘

عربوں کے لیے فلسطینی اسرائیلی تنازع سب سے زیادہ مایوس کن مسئلہ ہے ۔ بیشتر لوگ کہتے ہیں کہ وہ 1967 کی عرب اسرائیلی جنگ سے پہلے کی سرحد کی بنیاد پر دو ریاستوں والا حل قبول کر لیں گے۔ تا ہم ، بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اسرائیل اسے قبول نہیں کرے گا۔

سروے میں شامل اکثریت اب بھی یہی سمجھتی ہے کہ ایران وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن اب عربوں کا خیال یہ ہے کہ ایران کو اپنے نیوکلیئر پروگرام کا حق حاصل ہے اور اسے روکنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا جانا چاہیئے۔نصف سے زیادہ لوگ کہتے ہیں کہ نیوکلیر اسلحہ سے لیس ایران مشرقِ وسطیٰ پر مثبت اثر ڈالے گا۔

تلہامی کہتے ہیں کہ عربوں کا خیال ہے کہ ایران ان ہتھیاروں کو استعمال نہیں کرے گا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عربوں کا رد عمل در اصل امریکہ کی پالیسیوں پر ناراضگی کا اظہار ہے ۔’’جب عرب امریکہ کی خارجہ پالیسی کے بارے میں پُر امید ہوتے ہیں، تو ایران کے ساتھ ان کا رویہ سخت ہوتا ہے ۔ ایک سال پہلے ، 2009 میں ، جب عربوں کی اکثریت امریکی پالیسی کے بارے میں پُر امید تھی تو صرف 29 فیصد نے کہا تھا کہ ایران کے پاس نیوکلیئر اسلحہ ہونا، مشرق ِ وسطیٰ کے لیے اچھا ہو گا۔ اس سال، جب دو تہائی لوگ امریکہ کے خارجہ پالیسی کے بارے مِیں مایوس ہیں تو ان کی اکثریت یہ کہہ رہی ہے کہ ایران کے پاس نیوکلیئر اسلحہ موجود ہونا بہتر ہو گا۔‘‘

اس سروے میں انٹرنیٹ اور ٹیلیویژن دیکھنے کی عادتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ جاری رہا۔

بیشتر لوگوں نے کہا کہ وہ ٹیلیویژن پر خبروں کے کئی چینل دیکھتے ہیں۔ مقبول ترین چینل الجزیرہ ہے ۔نصف سے زیادہ لوگوں نے کہا کہ وہ تقریباً روزانہ امریکی اور یورپی فلمیں اور میوزک کے وڈیو دیکھتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG