رسائی کے لنکس

اوباما کا دورۂ ایشیا، مقصد اتحادیوں کو یقین دہانی


فائل

فائل

تجزیہ کاروں کے بقول، امریکی فوج میں کی جانے والی کٹوتیاں علاقائی ساجھے داروں کے لیے پریشانی کا باعث امر ہیں، آیا دفاع کے حوالے سے امریکی عزم کی کیا صورت ہوگی

آئندہ منگل کے روز سے صدر براک اوباما ایشیائی ممالک کے ایک ہفتے کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، جس دوران وہ جاپان، جنوبی کوریا، ملائیشیا اور فلپینز جائیں گے۔

وائٹ ہاؤس کے نامہ نگار، لوئی رمریز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی صدر کے دورے میں چین شامل نہیں ہے۔ تاہم، بحیرہٴمشرق اور جنوبی چین پر کنٹرول کے حصول کی چین کی کوششیں مسٹر اوباما اور امریکہ کے اتحادیوں کے پیشِ نظر ہیں، جِن کا وہ دورہ کر رہے ہیں۔

امریکی فوج میں کی جانے والی کٹوتیاں علاقائی ساجھے داروں کے لیے پریشانی کا باعث امر ہیں، آیا اُن کے دفاع کے حوالے سے امریکی عزم کی کیا صورت ہوگی۔

بروس کلنگر، ہیرٹیج فاؤنڈیشن کے ایک تجزیہ کار ہیں۔ بقول اُن کے،’مجھے پورا یقین ہے کہ مسٹر اوباما کھل کر بات کریں گے، اور ہمارے اتحادیوں کو یہ یقین دہانی کرائیں گے کہ ہم اب بھی اتنی پھرتی سے دوڑ سکتے ہیں اور جست لگانے کی سکت رکھتے ہیں، لیکن کیا وہ یہ باور کرلیں گے۔ یہ الگ معاملہ ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ہمارے اتحادی، ہمارے مخالفین کی طرح، ’بجٹ شیٹ‘ کو با آسانی بڑھ سکتے ہیں، بالکل ایسے ہی، جیسے ہم واشنگٹن میں بیٹھے ہوئے کرتے ہیں۔

صدر اوباما جاپان، ملائیشیا اور فلپینز میں قیام کریں گے، جِن ملکوں کے چین کے ساتھ علاقائی نوعیت کے تنازعات چل رہے ہیں۔

چند ہی روز قبل، امریکی وزیر دفاع، چَک ہیگل چین کا دورہ کر چکے ہیں؛ اور اُن کا کہنا ہے کہ امریکہ چین کو اپنا دشمن نہیں سمجھتا۔ تاہم، اس کی فوجی وسعت کو دیکھتے ہوئے، امریکی انتظامیہ اُسے ایک ممکنہ خطرہ ضرور سمجھتی ہے۔

شام کی افواج پر حملہ نہ کرنے یا یوکرین کو اہم فوجی اعانت فراہم کرنے کے امریکہ کے فیصلوں کے بارے میں سوالات نے ضرور جنم لیا ہے، آیا امریکہ آگے بڑھ کر اپنے ایشیائی اتحادیوں کا دفاع کرے گا۔

ایلی رٹنر ’سینٹر فور نیو امریکن سکیورٹی‘ میں ایشیا سے متعلق تجزیہ کار ہیں۔

بقول اُن کے، ’ظاہر ہے، اس بارے میں بہت کچھ کہا جا چکا ہے، اور شام اور یوکرین میں امریکہ کی طاقت اور اثر کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ لیکن، ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔ اس سے، واضح طور پر، یہ پیغام جائے گا کہ امریکہ مضبوط ایشیا میں یقین رکھتا ہے‘۔

اِس طرح کا پیغام بھیجا جانا، خاص طور پر جاپان کے لیے بہت اہم ہے، جو اِس خطے میں امریکہ کا ایک اہم اتحادی ہے، اوراپنے دورے میں صدر کا پہلا قیام ٹوکیو ہی میں ہوگا۔

جاپان کے دورے کے دوران، مسٹر اوباما بین البحرالکاہل علاقائی ساجھےداری کے تجارتی سمجھوتے کے بارے میں جاری مذاکرات میں تیزی لانے پر زور دیں گے۔

جاپان سے صدر جنوبی کوریا جائیں گے، جہاں وہ شمالی کوریا پر بات کریں گے، اور جنوبی کوریا اور جاپان کے باہمی تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے۔ اِن میں کشیدگی کا باعث بیسویں صدی کے پہلے نصف کے دوران جاپان کی طرف سے ہونے والی زیادتیوں پر مبنی یادیں ہیں۔

سنہ 1966کے بعد، مسٹر اوباما ملائیشیا کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر ہوں گے۔

صدر کے دورے کا اختتام فلپینز میں ہوگا، جہاں امریکہ نے اپنے فوجی اڈے کئی عشرے قبل بند کیے تھے، لیکن وہ منیلا فوج، طیارے اور بحری جہاز بھیجنے سے متعلق مذاکرات کرتا رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG