رسائی کے لنکس

اوباما کی خلانوردوں کے ساتھ فون پر گفتگو


فائل فوٹو

فائل فوٹو

مسٹر اوباما نے امریکی اسپس ایجنسی ناسا اور کئی سالوں سے جاری شٹل پروگرام کےلیے کام کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے خلائی دور کی طرف قدم بڑھانے میں امریکہ کی مدد کی ہے

امریکی صدر براک اوباما نے جمعے کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پرموجود خلانوردوں سےٹیلی فون پر گفتگو کرکے30سالہ امریکی خلائی شٹل پروگرام کے آخری مشن کے دوران اپنا کام بخوبی سرانجام دینے پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔

صدر اوباما نے شٹل ایٹلانٹس اور اسپیس اسٹیشن کے مجموعی طور پر 10رکنی عملے سے بات کی۔ مذاق کرتے ہوئے، اُنھوں نے عملے سے کہا کہ اُنھوں نے پیزا آرڈر کیا ہے اوراُنھیں ڈر ہے کہ کہیں یہ خلا کی طرف نہ چلا جائے۔


مسٹر اوباما نے امریکی اسپس ایجنسی ناسا اور کئی سالوں سے جاری شٹل پروگرام کےلیے کام کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے خلائی دور کی طرف قدم بڑھانے میں امریکہ کی مدد کی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ہمیشہ سےامریکی خلائی پروگرام قوم کے ذہن کے لیےمہم جوئی، تسخیر اور ہمت کی علامت بنا رہا ہے۔
ایٹلانٹس کے کمانڈر کِرس فرگوسن نے موجودہ مشن کو ایک ’کثیر ملکی کاوش‘ قرار دیتے ہوئے کہاکہ خلائی اسٹیشن پر موجود عملے کے ارکان اپنے متعلقہ ممالک کی نمائندگی کرنے کا شرف اور حوصلہ رکھتے ہیں۔

اِس 13روزہ مشن سے کئی نمایاں باتیں منسوب ہیں جِس میں شٹل پروگرام کی آخری خلائی چہل قدمی بھی شامل ہے جو منگل کو کی گئی۔ بدھ کو عملے نے ایٹلانٹس کے ذریعے لے جائے گئے 4000کلوگرام سے زائد سامان کو مدار میں پہنچانے کا غیر رواجی عمل سرانجام دیا۔

اگلے ہفتے زمین پر واپسی پر ایٹلانٹس کو برخاست کیا جائے گا اور اُسے اور دو دیگر خلائی شٹلز کوایک عجائب گھر کا درجہ دیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG