رسائی کے لنکس

ہلری کلنٹن صدارت کے لیے موزوں ترین امیدوار ہیں: صدر اوباما


امریکہ کے صدر براک اوباما نے بدھ کو دیر گئے ڈیموکریٹک قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مرد یا خاتون عہدہ صدارت کے لیے اتنا قابل نہیں رہا جتنا کہ ہلری کلنٹن ہیں۔

پینسلوینیا کے شہر فلاڈیلفیا میں جاری کنونشن میں صدر نے اپنی انتظامیہ کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے علاوہ یہ وضاحت بھی کی کہ بطور امیدوار ہلری کلنٹن منصب صدارت کے لیے کس طرح موزوں ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ملک اس وقت ہی بہتر ہو سکتا ہے جب تمام لوگ مل کر آگے بڑھیں۔

"اس سال، انتخاب میں، میں آپ سے کہوں گا کہ آپ مایوسی اور خوف کے خلاف میرا ساتھ دیں اور ہم میں موجود بہترین کو آواز دیں اور ہلری کلنٹن کو امریکہ کی آئندہ صدر منتخب کریں، اور دنیا کو دکھائیں کہ اب بھی اس عظیم قوم کے عزم پر یقین رکھتے ہیں۔"

انھوں نے ہلری کلنٹن کے بطور وزیر خارجہ اپنے ساتھ کام کرنے کے تجربات کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ صدر بننے کے لیے کسی بھی شخص کی اس زیادہ بہتر تربیت نہیں ہو سکتی۔

ّّ’’آپ کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا ہے کہ عالمی بحران سے کیسے نمٹنا ہے، یا نوجوان لوگوں کو کس طرح جنگ پر بھیجنا ہے۔ لیکن ہلری (اس کام میں رہی ہیں)، ایسے فیصلوں میں شریک رہی ہیں۔ وہ جانتی ہیں ایسے فیصلے کرتے ہوئے ہماری حکومت کا کیا کچھ داؤ پر ہوتا ہے، کام کرنے والے خاندانوں کو کیا کچھ داؤ پر ہوتا ہے، بزرگ شہریوں، چھوٹے کاروبار کرنے والوں کا (کیا داؤ پر لگا ہوتا ہے۔)‘‘

صدر نے ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابانی مہم کو بھی اپنی تقریر میں تنقید کا نشانہ بنایا۔

"وہ (ٹرمپ) صرف نعرے پیش کر رہے ہیں، خوف پیش کر رہے ہیں، وہ یہ کر رہے ہیں کہ لوگوں کو جتنا زیادہ خوفزدہ کریں گے تو ہو سکتا ہے کہ وہ اتنے ووٹ لے لیں کہ انتخاب میں کامیاب ہو جائیں۔"

اوباما نے ٹرمپ کی طرف سے نیٹو اتحادیوں کے لیے دیے گئے اس پیغام کا حوالہ بھی دیا کہ جس میں ان کا اصرار تھا کہ اس کے پہلے کہ امریکہ ان کی مدد کو آئے وہ اس بات کو یقینی بنائیں انھوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔

"وہ (ٹرمپ) پوٹن سے گرمجوشی دکھا رہے ہیں، صدام حسین کی تعریف کرتے ہیں، ہمارے نیٹو اتحادیوں کو جو کہ 9/11 کے بعد ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے، سے یہ کہہ رہے ہیں کہ انھیں اگر ہماری مدد چاہیے تو اس کے لیے انھیں پہلے قیمت ادا کرنا ہوگی۔ امریکہ کا عزم قیمت کی پرچی کے ساتھ نہیں ہوتا۔"

ادھر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے اپنے ردعمل میں بدھ کو ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک "افسردہ شب" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان تقاریر میں صرف وہ تجاویز دی گئیں جو صرف امراء کو نوازتی ہیں جبکہ "ایسے امریکی جو اپنے خاندانوں کے لیے تبدیلی چاہتے ہیں"، انھیں نشانہ بنایا گیا۔

بیان کے مطابق "انھوں نے امریکہ کو درپیش مسائل کا کوئی حل پیش نہیں کیا۔۔۔درحقیقت انھوں نے یہ ظاہر کیا کہ یہ مسائل وجود ہی نہیں رکھتے۔"

نائب صدر جو بائیڈن کنونشن سے خطاب کر رہے ہیں

نائب صدر جو بائیڈن کنونشن سے خطاب کر رہے ہیں

کنونشن میں نائب امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اپنی تقریر کے ایک بڑے حصے کو ٹرمپ پر تنقید کے لیے استعمال کیا اور خاص طور پر متوسط طبقے کے لیے ٹرمپ کے نعروں کو نشانہ بنایا۔

"وہ (ٹرمپ) ہمیں یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ متوسط طبقے کی فکر کرتے ہیں۔۔۔یہ فضول بات ہے۔"

انھوں نے کہا کہ موجودہ وقت بہت غیر یقینی ہے خطرات کہیں بڑے ہیں۔

"اس قوم کی تاریخ میں کسی بھی جماعت کا نامز امیدوار ہماری قومی سلامتی کو درپیش خطرات اور ان سے نمٹنے کے معاملے پر اتنا کم فہم رہا ہو۔ ہم ایسے شخص کو منتخب نہیں کر سکتے جو داعش اور دیگر دہشت گردوں کے لیے خوف کو استعمال کرتا ہوں، جس کے پاس ہمیں محفوظ بنانے کے کوئی منصوبہ نہ ہو۔ ایک ایسا شخص کو ہمارے دشمنوں کے طریقہ کار اپناتا ہے۔۔۔تشدد، مذہبی عدم برداشت۔ آپ سب جانتے ہیں، سارے ریپبلکنز جانتے ہیں، کہ یہ (ٹرمپ) وہ نہیں ہے۔"

نیویارک کے سابق میئر اور معروف کاروباری شخصیت مائیکل بلومبرگ نے بھی ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ووٹرز پر زور دیا کہ یہ ضروری ہے کہ "ایک خطرناک شخص" کو شکست دی جائے۔

ہلری کلنٹن نے گزشتہ ہفتے ہی اپنے نائب صدر کے طور پر ورجینیا سے سینیٹر ٹم کین کو نامزد کیا تھا اور بدھ کو کنونشن میں انھوں نے بھی مخالف جماعت کے نامزد صدارتی امیدوار کو آڑے ہاتھوں لیا۔

کنونشن کا اختتام جمعرات کو ہلری کلنٹن کے خطاب پر ہو گا۔

XS
SM
MD
LG