رسائی کے لنکس

شمعون پیریز ’’بیسویں صدی کی عظیم شخصیت‘‘: اوباما


یروشلم

یروشلم

پیریز اور اوباما اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے دو ریاستی حل پر متفق رہے ہیں۔ امریکی صدر نے انھیں 2012ء میں ’میڈل آف فریڈم‘ بھی عطا کیا تھا، جو کہ اعلیٰ ترین شہری اعزاز ہے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اسرائیل کے مرحوم سابق صدر شمعون پیریز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انھیں "بیسویں صدی کی عظیم شخصیات" میں سے ایک قرار دیا۔

جمعہ کو یروشلیم میں شمعون پیریز کی آخری رسومات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل "نظریاتی اور جدوجہد کرنے والے تارکین وطن" نے تعمیر کیے اور انھوں نے پیریز کی اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے حل سے متعلق کوششوں کو سراہا۔

ان کے ہمراہ 23 رکنی وفد بھی ہے جس میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن، وزیر خارجہ جان کیری، ڈیموکریٹک سینیٹر باب کیسی اور ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک راہنما نینسی پلوسی بھی شامل ہیں۔

اوباما کا کہنا تھا کہ "دہشت گردی اور مذاکرات کی میز پر ہونے والی مسلسل ناکامیوں کے باوجود ان (پیریز) کا اصرار تھا کہ انسان کے طور پر فلسطینیوں کا بھی یہودیوں کے برابر وقار ہے۔"

اپنے خطاب کے آغاز میں اوباما نے یہاں موجود فلسطین کے صدر محمود عباس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان آخری رسومات میں ان کی شرکت "امن کے نامکمل عمل کی طرف ایک اشارہ اور یاد دہانی ہے۔"

محمود عباس نے اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ہاتھ ملایا اور رسمی جملوں کا تبادلہ بھی کیا۔

امریکی راہنما کے علاوہ پیریز کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے فلسطین کے صدر محمود عباس بھی یہاں آئے ہیں۔

فلسطین کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ محمود عباس کو توقع ہے کہ ان کی یہاں آمد سے "اسرائیلی معاشرے کو یہ پیغام جائے گا کہ فلسطینی امن چاہتے ہیں اور شمعون پیریز جیسے پرامن لوگوں کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔"

محمود عباس 2010ء کے بعد پہلی مرتبہ یروشلیم آئے ہیں اور وہ عرب دنیا کے پہلے راہنما ہیں جنہوں نے بدھ کو پیریز کی موت پر دکھ کا اظہار کیا تھا۔ جمعرات کو اردن کے بادشاہ عبداللہ نے بھی اسرائیل سے تعزیت کی تھی۔

شمعون پیریز کے انتقال پر عرب ممالک کی طرف سے خاموشی ہی دیکھنے میں آئی جس سے ان کی اسرائیل سے مخالفت عیاں ہوتی ہے۔

شمعون پیریز فالج کے حملے کا شکار ہو کر دو ہفتوں تک زیر علاج رہے اور بدھ کو 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

پیریز اور اوباما اسرائیل اور فلسطین کے تنازع کے دو ریاستی حل پر متفق رہے ہیں۔ امریکی صدر نے انھیں 2012ء میں "میڈل آف فریڈم" بھی عطا کیا تھا جو کہ اعلیٰ ترین شہری اعزاز ہے۔

شمعون پیریز نے بھی اوباما کو "تمغہ امتیاز" سے نوازا تھا جو کہ منصب صدارت پر فائز کسی بھی امریکی صدر کے لیے اسرائیل کا پہلا اعلیٰ ترین سول اعزاز تھا۔

XS
SM
MD
LG