رسائی کے لنکس

ترکی کے نو شہریوں کی ہلاکت پر اسرائیل کی معذرت


نیتن یاہو

نیتن یاہو

’امریکہ ترکی اور اسرائیل کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو انتہائی قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہم دونوں کی طرف سےمثبت تعلقات کی بحالی کو انتہائی اہم پیش رفت خیال کرتے ہیں، تاکہ علاقائی امن اور سلامتی کو تقویت مل سکے‘: اوباما

اسرائیل نے سنہ 2010میں غزہ جانے والی ایک کشتی پر اُس کی بحریہ کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں ترکی کے نو شہریوں کی ہلاکت کے معاملے پر ترکی سے معذرت کی ہے، اور اس طرح، امریکہ کے ناراض دونوں اتحادیوں نے تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق کیا ہے، جس حیران کُن پیش رفت کا اعلان امریکی صدر براک اوباما نے کیا۔

مصالحت کے نتیجے میں شام میں جاری خانہ جنگی سے ہمسایہ ملک جانے والے پناہ گزینوں کے معاملے پر علاقائی رابطہ کاری بڑھے گی، جب کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی سفارتی تنہائی کم ہوگی، جسے ایران کے جوہری پروگرام کے باعث خطرات لاحق ہیں۔

اوباما نے جونہی اسرائیل کا دورہ مکمل کیا، اُس کے چند ہی منٹ کے اندر اندر وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ صدر اور وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور اُن کی ترک ہم منصب طیب اردگان نے ٹیلی فون پر آپس میں گفتگو کی۔

اوباما نے کہا کہ امریکہ ترکی اور اسرائیل کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں کی طرف سے مثبت تعلقات کی بحالی کو ہم انتہائی اہم پیش رفت خیال کرتے ہیں، تاکہ علاقائی امن اور سلامتی کو تقویت مل سکے۔

سنہ 2011سے اب تک دونوں راہنماؤں کی یہ پہلی گفتگو تھی، جب نیتن یاہو نے ترکی میں آنے والے زلزلے کے بعد امداد کی پیش کش کرتے ہوئے اُن سے ٹیلی فون پر بات کی تھی۔ اسے اوباما کی سفارتی فتح قرار دیا جا رہا ہے، جو اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے دورے پر تھے، جس میں اُنھوں نے تقریباً تین برسوں سے سرد مہری کے شکار امن عمل بات چیت کو بحال کرنے کے لیےکوئی نیا منصوبہ پیش نہیں کیا۔

امریکی حکام کے مطابق، آدھ گھنٹے کی ٹیلی فون پر یہ گفتگو تل ابیب ایئرپورٹ سے ہوئی جہاں ’ایئر فورس ون‘ کا خصوصی طیارہ اردن پرواز کے لیے تیار کھڑا تھا، اور دنوں اوباما اور نیتن یاہو، وہاں موجود تھے۔
XS
SM
MD
LG