رسائی کے لنکس

بحیرہ جنوبی چین میں کشیدگی کم کی جائے: اوباما


صدر اوباما فلپائن کے صدر بینِگنو اکینو نے ہمراہ

صدر اوباما فلپائن کے صدر بینِگنو اکینو نے ہمراہ

منیلا میں ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن کانفرنس کے موقع پر فلپائن کے صدر بینِگنو اکینو سے دوطرفہ ملاقات کے بعد صدر اوباما نے چین کی سرگرمیوں کی طرف توجہ مبذول کروائی جس سے علاقے میں اور امریکہ میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دلیرانہ اقدامات کیے جائیں۔ بحیرہ جنوبی چین کے مختلف علاقوں پر فلپائن سمیت چھ ممالک ملکیت کا دعویٰ رکھتے ہیں مگر سب سے زیادہ علاقے کی ملکیت کا دعویدار چین ہے۔

منیلا میں ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن کانفرنس کے موقع پر فلپائن کے صدر بینِگنو اکینو سے دوطرفہ ملاقات کے بعد صدر اوباما نے چین کی سرگرمیوں کی طرف توجہ مبذول کروائی جس سے علاقے میں اور امریکہ میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ ’’ہم نے چین کی طرف سے زمین کی بحالی اور تعمیری سرگرمیوں کے علاقائی استحکام پر اثرات کا جائزہ لیا۔ ہم نے کشیدگی کم کرنے کے لیے دلیرانہ اقدامات پر اتفاق کیا جس میں بحیرہ جنوبی چین کے متنازع علاقے میں بحالی کے مزید کام، نئی تعمیرات اور فوجی سرگرمیاں روکنے کا عزم شامل ہے۔‘‘

چین دو سال سے سمندر کی تہہ میں سے ریت کھول کر وہاں موجود چٹانوں کو مصنوعی جزائر کی شکل دینے کے کام میں مصروف ہے جس سے اس کے ہمسایہ ممالک میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

ان نئے جزائر میں سے دو پر فضائی پٹیاں اور بندرگاہیں تعمیر کی گئی ہیں جو ہوائی اور بحری جنگی جہازوں کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ حکام نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ چین نے اپنے منصوبوں کی وضاحت نہیں کی۔

چین کا مؤقف ہے کہ پورے علاقے پر اس کی ’’حاکمیت ناقابل تردید‘‘ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ان تنازعات میں بیرونی طاقتوں کو ملوث ہونے کی ضرورت نہیں۔ فلپائن نے چین کی ملکیت کے دعوے کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے۔

صدر اوباما نے امریکہ کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ وہ اس تنازع میں غیر جانبدار ہے مگر فلپائن کے لیے اپنی ٹھوس حمایت کے عزم کا اظہار کیا۔

XS
SM
MD
LG