رسائی کے لنکس

یوکرین بحران: صدر اوباما کے عالمی رہنماؤں سے رابطے


فائل

فائل

صدر اوباما نے ہفتے کو برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون، فرانس کے صدر فرانسس اولاں اور اٹلی کے وزیرِاعظم میٹیو رینزی کو علیحدہ علیحدہ ٹیلی فون کرکے یوکرین کے بحران پر گفتگو کی۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے یوکرین کے بحران اور روس کی فوجی مداخلت کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کے لیے کئی عالمی رہنماؤں سے رابطہ کیا ہے۔

'وہائٹ ہاؤس' کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق صدر اوباما نے ہفتے کو برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون، فرانس کے صدر فرانسس اولاں اور اٹلی کے وزیرِاعظم میٹیو رینزی کو علیحدہ علیحدہ ٹیلی فون کرکے یوکرین کے بحران پر گفتگو کی۔

بیان کے مطابق امریکی صدر نے مشرقی یورپی ریاستوں لتھوانیا، لیٹویا اور ایسٹونیا کے صدور کے ساتھ بھی کانفرنس کال پر یوکرین میں روس کی فوجی مداخلت کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔

ان ٹیلی فونک رابطوں میں امریکی صدر اور عالمی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔

امریکی صدر نے اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ یہ رابطے ایک ایسے وقت میں کیے ہیں جب یوکرین کی سرحد کے نزدیک روسی فوج کی نقل وحرکت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے ہفتے کو اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے نیم خود مختار علاقے کرائمیا کے ایک فوجی اڈے میں ایک بڑا فوجی قافلہ داخل ہوتے دیکھا گیا ہے۔

'رائٹرز' کے مطابق کئی درجن گاڑیوں پر مشتمل یہ قافلہ کرائمیا کے دارالحکومت سمفرپول کے نزدیک قائم ایک فوجی چھاؤنی پہنچا ہے۔ یہ چھاؤنی پہلے ہی سے نامعلوم فوجیوں کے قبضے میں ہے جن کے بارے میں گمان ہے کہ وہ روسی ہیں۔

اس سے قبل ہفتے کو ہی بین الاقوامی مبصروں کے ایک وفد کو کرائمیا میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے ان مبینہ روسی فوجیوں نے ہوائی فائرنگ کی تھی۔

مبصروں کا تعلق 'یورپی تنظیم برائے سلامتی و تعاون (او ایس سی ای)' سے تھا۔ بین الاقوامی مبصر گزشتہ تین روز سے کرائمیا میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن مبینہ روسی فوجیوں کی جانب سے انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی۔

'او ایس سی ای' کے مطابق ہوائی فائرنگ کےبعد تنظیم کے مبصرین یوکرین کے جنوبی شہر کیرشون لوٹ گئے ہیں۔

ادھر یوکرینی حکام کے مطابق کرائمیا کی سرحد کے نزدیک پرواز کرنے والے اس کے ایک طیارے پر فائرنگ کی گئی ہے۔

یوکرین کے سرحدی محافظوں کے مطابق سرحدی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والا طیارہ کرائمیا کی سرحد سے ایک ہزار میٹر کے فاصلے پر پرواز کر رہا تھا جب اس پر زمین سے فائرنگ کی گئی۔

حکام کے مطابق طیارے پر تین افراد کا عملہ سوار تھا جو فائرنگ کے واقعے میں محفوظ رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ طیارہ نگرانی کے مشن پر تھا اور اس پر اسلحہ موجود نہیں تھا۔

خیال رہے کہ یوکرین میں یورپ نواز حزبِ اختلاف کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد روس نواز مظاہرین نے کرائمیا میں احتجاج شروع کردیا تھا جس کی آڑ میں گزشتہ ہفتے روس نے علاقے میں اپنی فوجیوں داخل کردی تھیں۔

کرائمیا کی علاقائی حکومت نے یوکرین سے علیحدگی اور روس کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا ہے جس پر 16 مارچ کو ریفرنڈم ہوگا۔ امریکہ اور مغربی ممالک اس ریفرنڈم کو پہلے ہی عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے تسلیم نہ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

روسی حکومت کرائمیا میں اپنے فوجی داخل کرنے کے دعووں کی تردید کرتی ہے جسے امریکہ اور یورپ تسلیم نہیں کرتے۔
XS
SM
MD
LG