رسائی کے لنکس

افریقہ کو عالمی ترقی کا مرکز ہونا چاہیے: صدر اوباما


اوباما نے تاجروں اور سرمایہ کاروں سے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ نے گزشتہ سال مراکش میں ہونے والے سربراہ اجلاس کے وعدے کے مطابق نئے کاروباری اداروں کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد کا سرمایہ حاصل کیا ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما کینیا میں ہفتے کو ’گلوبل آنٹرپرنیورشپ سمٹ‘ کی مشترکہ میزبانی کر رہے ہیں جو کہ بحیثیت امریکی صدر اپنے پہلے دورے پر نیروبی پہنچے تھے۔

کینیا کے صدر اوہورو کینیاٹا نے کانفرنس میں صدر اوباما کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ وہ براعظم افریقہ کے بہت اچھے دوست ہیں۔

اپںے افتتاحی کلمات میں صدراوباما نے کہا کہ ’’مجھے دوبارہ کینیا آ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔ یہاں آنا میرے لیے ذاتی اہمیت رکھتا ہے۔ میرا خاندان اس جگہ سے ہے اور میرے رشتہ دار اور خاندان کے افراد یہاں رہتے ہیں۔‘‘

انہوں نے تاجروں اور سرمایہ کاروں سے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ نے گزشتہ سال مراکش میں ہونے والے سربراہ اجلاس کے وعدے کے مطابق نئے کاروباری اداروں کے لیے ایک ارب ڈالر سے زائد کا سرمایہ حاصل کیا ہے۔

اوباما نے کہا کہ افریقہ دنیا کے تیزی ترین ترقی کرنے والے براعظموں میں شامل ہے جہاں لوگوں کو غربت سے نکالا جا رہا ہے اور متوسط طبقہ پھیل رہا ہے۔

’’اس براعظم کو مستقبل میں ناصرف افریقہ کی بلکہ عالمی ترقی کا مرکز ہونا چاہیئے۔‘‘

صدر کینیاٹا نے اپنی تقریر میں کینیا کی سلامتی کے مسائل اور اس کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت کا ذکر کیا اور حاضرین سے کہا کہ وہ اپنے ملک واپس جا کر اور دنیا بھر میں اپنے دوستوں کو بتائیں کہ ’’افریقہ کاروبار کے لیے کھلا اور تیار ہے۔‘‘

متعدد کاروباری نوجوانوں سے سٹیج پر بات چیت کے بعد صدر اوباما نے اجلاس ختم کرتے ہوئے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنے کاروباری منصوبوں کی تکمیل کریں۔

امریکی قانون سازوں، وائٹ ہاؤس حکام اور کاروباری افراد کا ایک وفد صدر کے ہمراہ ہے۔

صدر اوباما کے استقبال کے لیے، جسے کینیا کے عوام ’’گھر آمد‘‘ کہہ رہے ہیں، نیروبی کی گلیوں کو خوب سجایا گیا ہے۔

مگر صدر کی آمد پر سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں اور نیروبی میں کم از کم 10,000 پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

صدر اوباما جمعہ کی شام نیروبی پہنچے جہاں صدر کنیاٹا نے ان کا استقبال کیا۔ صدر اوباما، جن کے والد کینیا سے تعلق رکھتے تھے، نے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ عشائیے میں شرکت کی، جن میں ان کی سوتیلی دادی ماما سارہ اور سوتیلی بہن اوما اوباما شامل تھیں۔

امریکی عہدیداروں نے کہا کہ ہے سکیورٹی خدشات کے باعث صدر مغربی کینیا میں واقعہ گاؤں کوگیلو نہیں جا سکیں گے، جہاں ان کے والد پیدا ہوئے اور اب دفن ہیں۔

براک اوباما سینئیر معیشت دان تھے، جنہوں نے کینیا کے پہلے وزیراعظم، موجودہ وزیراعظم کینیاٹا کے والد، کی حکومت میں کام کیا تھا۔

اوباما نے آخری مرتبہ 2006 میں امریکی سینیٹر کی حیثیت سے کینیا کا دورہ کیا تھا۔

کینیا میں دو دن گزارنے کے بعد اوباما ایتھوپیا جانے والے پہلے امریکی صدر بن جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG