رسائی کے لنکس

اوباما، کانگریس قائدین کی ملاقات: پیش رفت نہیں ہوپائی


وائٹ ہاؤس ملاقات کے بعد، جان بینر اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے

وائٹ ہاؤس ملاقات کے بعد، جان بینر اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے

بدھ کی شام گئے وائٹ ہاؤس میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ری پبلیکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے قائدین کی مسٹر اوباما کے ساتھ بند کمرے میں ملاقات ہوئی

امریکی کانگریس کے قائدین نے صدر براک اوباما سے ملاقات کے بعد بتایا ہے بجٹ تعطل کے معاملے پر، جس کے باعث وفاقی حکومت کا کاروبار جزوی طور پر بند ہے، کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی۔

بدھ کی شام گئے وائٹ ہاؤس میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ری پبلیکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے قائدین کی مسٹر اوباما کے ساتھ بند کمرے میں ملاقات ہوئی۔

ملاقات کے بعد، ایوان نمائندگان کے اسپیکر، جان بینر نے بتایا کہ صدر اوباما نے اُنھیں بتایا کہ حکومت کے کاروبار کو جاری کرنے کے لیے وہ کسی سمجھوتے پر مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے جان بینر نے کہا کہ اُنھوں نے صدر سے کہا کہ وہ مسٹر اوباما کے فخریہ صحت عامہ کی نگہداشت کے پروگرام کے، اُن کے بقول، ’منصفانہ‘ ہونے سے متعلق گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔

سینیٹ میں قائد ایوان، ہیری ریڈ نے اجلاس سے باہر آتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس ری پیلیکنز کے ساتھ بات کرنے اور یہ معلوم کرنے پر خوش ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں، لیکن صرف اُس صورت میں کہ اخراجات کے لیے مختص رقوم منظور ہوں، اور حکومتی شٹ ڈاؤن ختم ہو۔

وائٹ ہاؤس نے بدھ کی ملاقات کو ’کارآمد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر کو إِس بات پر خوشی ہے کہ اجلاس منعقد ہوا۔

تاہم، بات چیت سے قبل، مسٹر اوباما نے ’سی این بی سی ٹیلی ویژن‘ کو بتایا کہ اُنھیں ری پبلیکنز کے ساتھ کام کرنے کے معاملے پر ’مایوسی ہوئی ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ تھک چکے ہیں۔ اُنھوں نے کاروبارِ حکومت بند ہونے کے معاملے کو ہر لحاظ سے ’غیر ضروری‘ قرار دیا۔

اس سے قبل کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ صدر براک اوباما نے بدھ کی شام گئے کانگریس کے قائدین کا ایک اجلاس طلب کیا ہے، جس میں اُس تعطل پر غور کیا جائے گا جس کے باعث آٹھ لاکھ سرکاری کارکن انضباطی چھٹی پر ہیں، متعدد حکومتی خدمات رک گئی ہیں اور 400 قومی پارک اور یادگار بند پڑے ہیں۔

جس طرح ماضی میں حکومتی فنڈز کے اجراٴ کے سلسلے میں حائل مشکلات کے تصفیئے کی تیز تر کوششیں کی جاتی رہی ہیں، مسٹر اوباما، جن کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے اور جنھیں صدارتی عہدہ سنبھالے ہوئے یہ پانچواں سال ہے، اسپیکر جان بینر سے تواتر کے ساتھ ملاقاتیں کرتے رہے ہیں، جو ایوان نمائندگان میں ری پبلیکن اکثریت والے ایوان کے قائد ہیں۔

اُن کی یہ کوشش تھی کہ حکومتی اخراجات اور ٹیکس کے معاملات پر سودے بازی کا ایک جامع پیکیج تشکیل دیا جائے، تاہم اُن کے حامی زیر غور کئی شرائط پر رضامند نہ ہوسکے، اور یوں، وہ ناکام رہے۔

تاہم، 2012ء کے اواخر میں نائب صدر جو بائیڈن اور سینیٹ میں ری پبلیکن پارٹی کے اقلیتی قائد، مِچ مکانیل نے کامیابی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کا مقصد زیادہ تر امریکی کارکنوں کے لیے ٹیکس کے اضافے سے بچا جاسکے، جب کہ ملک کے دولت مند لوگوں کے لیے ٹیکس میں اضافے کی اجازت دی گئی۔

تاہم، اِس ہفتےامریکی سیاسی قائدین نے شٹ ڈاؤن کی ذمہ داری کے معاملے پر ایک دوسرے کےخلاف سخت بیانات دیے، اور17 سال کے بعد کاروبار حکومت بند ہونے کا ہر فریق نے دوسرے پر الزام دیا ہے۔

جان گِلمر ایک صدارتی اسکالر ہیں۔ وہ ریاست ورجینیا کے’کالج آف ولیم اینڈ میری‘میں ایک پروفیسر ہیں۔

اُنھوں نے’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ شٹ ڈاؤن کے ذمہ دار، ری پبلیکنز ہیں۔ وہ مسٹر اوباما کے صحت عامہ کی نگہداشت کے فخریہ پروگرام کی عمل درآمد میں تاخیر اور روڑے اٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ حکومتی اداروں کے لیے اخراجات کے ایک نئے پیکیج کی منظوری کے بدلے، سنہ 2010میں صحت عامہ کا یہ پروگرام شروع ہوا جو ’اوباما کیئر‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اُسے واپس لیا جائے۔ مسٹر اوباما اور ڈیموکریٹس اس قانون کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہیں۔

گِلمر نے کہا کہ امریکہ کی یہ دو اہم سیاسی جماعتیں آج ایک دوسرے سے الجھی ہوئی ہیں، جن کے پاس کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے سیاسی وزن نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایسے میں جب شٹ ڈاؤن جاری ہے، کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکومتی فنڈنگ کے بارے میں موجودہ تعطل امریکی مالی امور کا ایک اور کلیدی معاملہ بن کر سامنے آنے والا ہے۔ اور اس معاملے کا تعلق ملک کی قرضہ جات کی حد بڑھا کر 16.7 ٹرلین ڈالر کرنا ہے، تاکہ امریکہ قومی قرض کی واپسی میں ناکام نہ ہو۔
XS
SM
MD
LG