رسائی کے لنکس

تیل کی صفائی تک ’’بی پی‘‘ پر دباؤ جاری رکھنے کا اعادہ

  • جم میلون

بدھ کے روز صدربراک اوباما وائٹ ہاؤس میں بی پی کمپنی کے اعلیٰ افسروں سے ملے ۔ میٹنگ کے بعد انھوں نےاپنے اس عہد کا اعادہ کیا کہ وہ خلیجِ میکسیکو میں پھیلے ہوئے تیل کو صاف کرنے کے لیے بی پی کمپنی پر دباؤ جاری رکھیں گے۔ اس سے ایک روز پہلے صدر اوباما نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس سے اس بحران کے بارے میں قوم سے خطاب کیا تھا۔

بی پی کمپنی کے افسران کے ساتھ میٹنگ کے بعد صدر اوباما نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کمپنی پھیلے ہوئے تیل کو صاف کرنے اور متاثرہ لوگوں کو ہرجانہ ادا کرنے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے ۔ انھوں نے کہا کہ ہر امریکی یہی چاہتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ بی پی کمپنی کی جوابدہی کی جائے۔

اس میٹنگ سے ایک روز پہلے صدر نے اوول آفس سے قوم کو خطاب کیا۔ امریکی صدور عام طور سے جنگ یا قومی بحران کی صورت میں اوول آفس سے تقریر کرتے ہیں۔ مسٹر اوباما نے امریکہ کے لوگوں کو اطمینان دلانے کی کوشش کی کہ ان کی انتظامیہ سمندر میں تیل کے بہنے کے معاملے سے اچھی طرح نمٹ رہی ہے۔

یہ پہلا موقع تھا کہ انھوں نے اوول آفس سے امریکی عوام کو براہ راست خطاب کیا۔’’سمندر میں تیل کا پھیل جانا امریکہ کے لیے آخری بحران نہیں ہے ۔ ہم نے پہلے بھی کٹھن وقت دیکھے ہیں اور یقیناً مشکل وقت پھر بھی آئیں گے ۔ہم نے ہمیشہ اپنی طاقت اور اپنے اس یقین کے سہارے ہمیشہ مشکلات پر قابو پایا ہے کہ اگر ہم حوصلے سے کام لیں تو اچھا وقت ہمارا منتظر ہوگا۔‘‘

خلیجِ میکسیکو میں تیل کا پھیل جانا صدر کے سیاسی تدبر اور قیادت کی صلاحیت کے لیے ایک بڑی آزمائش بن گیا ہے ۔اس بحران کے ابتدائی دنوں میں صدر کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچا تھا ۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ بحران سے نمٹنے میں صدر نے سستی سے کام لیا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اپنی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے صدر نے قوم سے خطاب کے لیے اوول آفس کا انتخاب کیا۔

یونیورسٹی آف ٹیکسس کےبروس بوکینن کہتے ہیں’’میرے خیال میں یہ بات بہت اہم ہے کیوں کہ اب ہمیں احساس ہو گیا ہے کہ ہمارے ملک کے لیے یہ سب سے بڑا ماحولیاتی بحران ہے ۔ کسی بھی اتنے سنگین مسئلے کے لیے صدر کی تمام تر توجہ ضروری ہے اور صدر اوباما اس وقت یہی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

صدر کے بعض ناقدین نے سوال کیا ہے کہ صدر کو اس بحران میں اپنے اختیارات کے استعمال میں اتنا وقت کیوں لگا کیوں کہ اس طرح مسائل کے حل کے لیے صدر کی صلاحیت کے بارے میں لوگوں کا اعتماد ختم ہو سکتا ہے ۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ صدر اوباما چار بار خلیج ِ میکسیکو کا دورہ کر چکےہیں تاکہ مسئلے کا خود جائزہ لیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے پیش رو صدر جارج ڈبلو بُش پر کتنی سخت تنقید کی گئی تھی جب ان کی انتظامیہ 2003 میں سمندری طوفان کترینا کے اثرات سے نمٹنے میں ناکام رہی تھی۔

سیاسی تجزیہ کار بروس بوکینن کہتے ہیں کہ موئثر طریقے سے حکومت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ صدر عوام میں اعتماد اور قیادت کا تاثر پیدا کر سکیں۔’’سمندری طوفان کترینا کے حوالے سے صدر بُش کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑی تھی کیوں کہ ایسے وقت میں جب حالات خطرناک تھے اور لوگوں کو انتہائی مشکل مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ، انھوں نے یہ تاثر دیا جیسے انہیں کوئی خاص فکر نہیں ہے ۔ صدر کے فرائض میں یہ بات اہم ہے کہ وہ نہ صرف لوگوں کے مصائب کو سمجھنے کا تاثر پیدا کریں، بلکہ ان کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار بھی کریں۔ ‘‘

رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام کی معمولی سی اکثریت کا خیال ہے کہ تیل پھیلنے کے مسئلے کے بارےمیں صدر اوباما کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ لیکن بوکینن جیسے بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اب تک صدر کی عوامی مقبولیت کی شرح پر تیل کے بحران کا بہت کم اثر ہوا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے بڑی حیرت ہے کہ نہ صرف تیل کے اتنے سنگین بحران کے باوجود، بلکہ ان کے عہدِ صدارت میں جو اور بہت سے مسائل پیش آئے ہیں ان سب کے باوجود صدر کی مقبولیت کی شرح 50 فیصدکے لگ بھگ رہی ہے ۔

گیلپ کے پولسٹر فرینک نیوپورٹ اس جائزے سے متفق ہیں لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر اگلے چند ہفتوںمیں حالات بہتر نہ ہوئے تو عام لوگوں کی رائے انتظامیہ کی اہلیت کے بارے میں بڑی تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے ۔’’اگر تیل کے پھیلنے کے سلسلے میں گرمیوں کے آخر تک حالات اسی طرح خراب ہوتے رہے تو پھر صدر اوباما کے لیے امریکی عوام کے منفی رد عمل سے نکلنا مشکل ہو جائے گا۔‘‘

شاید رائے عامہ کے جائزوں میں جو بات صدر کے حق میں جاتی ہے وہ یہ ہے کہ عوام کی رائے اس کمپنی کے بارے میں کہیں زیادہ خرا ب ہے جو اس حادثے کی ذمہ دار ہے ۔ ایسو سی ایٹڈ پریس اور Ipsos کے مشترکہ جائزے سے پتا چلا ہے کہ سروے میں شامل 83 فیصد افراد اس بحران سے نمٹنے میں بی پی کمپنی کی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔

XS
SM
MD
LG