رسائی کے لنکس

فلوریڈا میں کلنٹن کے حامی پُرجوش حامیوں سے خطاب میں، اُنھوں نے کہا کہ ’’آپ ہنس رہے ہیں۔ میں مذاق نہیں کر رہا۔ اُن کا مزاج کمانڈر اِن چیف بننے کے لیے غیر موزوں ہے‘‘۔ ادھر، ہیلری کلنٹن کے لیے، ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’عین ممکن ہے کہ کئی سالوں تک وہ زیرِتفتیش رہیں‘‘

امریکی صدر براک اوباما ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدار، ہیلری کلنٹن کی کھل کر وکالت کر رہے ہیں۔ جمعرات کے روز ری پبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے، ڈونالڈ ٹرمپ کا مذاق اڑاتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ وہ ’’منفرد اعتبار سے صدر بننے کے اہل نہیں‘‘۔

فلوریڈا میں کلنٹن کے حامی پُرجوش حامیوں سے خطاب میں، اُنھوں نے کہا کہ ’’آپ ہنس رہے ہیں۔ میں مذاق نہیں کر رہا۔ اُن کا مزاج کمانڈر اِن چیف بننے کے لیے غیر موزوں ہے‘‘۔

نارتھ کیرولینا کے ساتھ ساتھ، فلوریڈا دو اوقیانوس کی ساحلی ریاستوں میں سے ایک ہے، جہاں کلنٹن اور ٹرمپ جیت کی سر توڑ کوشش کررہے ہیں، جب کہ منگل کو قومی صدارتی انتخاب ہونا ہے۔

اوباما نے میامی میں تقریر کے دوران کہا کہ ’’اگر ہم فلوریڈا میں جتتے ہیں تو ہم انتخاب جیت جائیں گے‘‘۔ یہ مقام روشن دِنوں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے، جہاں دور دور سے سیاح آتے ہیں، جہاں کلنٹن کے حامی ہزاروں ہسپانوی ووٹر موجود ہیں، جو ٹرمپ کی تارکین وطن کے لیے سخت لہجے کے استعمال اور منصوبوں کا مخالف ہے۔

بعد میں، اوباما فلوریڈا کے سب سے بڑے شہر، جیکویل گئے جو ملک کی شمالی ریاست میں واقع ہے، جہاں ٹرمپ نے جمعرات ہی کو اپنی انتخابی مہم چلائی۔

ٹرمپ نے کلنٹن پر’’مجرمانہ انداز کی مالک‘‘ ہونے کا الزام لگایا ، چونکہ، بقول اُن کے، اُنھوں نے وزیر خارجہ کے چار سالہ دور میں اپنی اِی میل میں قومی سلامتی کے مواد سےنامناسب سلوک کیا۔

ٹرمپ کے بقول، ’’عین ممکن ہے کہ کئی سالوں تک وہ زیرِتفتیش رہیں‘‘۔

XS
SM
MD
LG