رسائی کے لنکس

2013ء ہی کے دوران، دافع درد ادویات کی ضرورت سے زیادہ مقدار کے استعمال سے 16000 سے زائد امریکی ہلاک ہوئے۔۔۔

سڑک کے حادثات کے مقابلے میں، امریکہ میں ہر سال لوگوں کی زیادہ تعداد ادویات کے تجویز کردہ ’ڈوز‘ سے زائد مقدار استعمال کرنے کے باعث ہوتی ہے۔

یہ بات صدر اوباما کو بدھ کے روز پیش کیے گئے اعداد سے معلوم ہوئی، جس موقع پر اُنھوں نے معالجوں کی تجویز کردہ ادویات اور ہیروئن کے غلط استعمال کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے، نئی حکمت عملی کا اعلان کیا۔

اوباما کے بقول، ’2013ء ہی کے دوران، دافع درد ادویات کی ضرورت سے زیادہ مقدار کے استعمال سے 16000 سے زائد امریکی ہلاک ہوئے۔ ایک ہی سال میں۔ مجھے یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ فوتگی کی یہ ہولناک تعداد ہے‘۔

امریکی صدر بدھ کو مغربی ورجینیا کے شہر چارلسٹن پہنچے جہاں اُنھوں نے کمیونٹی مباحثے میں شرکت کی، جس میں خاندان اور صحت عامہ کی دیکھ بھال سے وابستہ ادارے شریک تھے، جس موقعے پر ادویات کے حد سے زیادہ استعمال کی وبا پر غور و خوض ہوا۔

اس ضمن میں، ملک بھر میں ہونے والی اموات کے سلسلے میں مغربی ورجینیا سب سے آگے ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ حکومت اور نجی شعبے نے کوشش کی ہے کہ دافع درد دوائیاں اور دیگر قانونی ادویات کا حد سے تجاوز کرنے والا استعمال مہلک نتائج برآمد کرتا ہے۔

ہیروئن کے غیر متوازن استعمال سے متعلق، بتایا گیا کہ اس کے نتیجے میں واقع ہونے والی اموات کو کم کرنے کے لیے، صارفین کی بہتر طبی امداد تک رسائی لازم ہے، جسے یقینی بنایا جائے۔

صدر اوباما نے وفاقی اداروں اور محکموں کو ہدایات جاری کی ہیں جن میں صحت عامہ سے منسلک پیشہ ور افراد کو ضروری تربیت کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، تاکہ وہ دافع درد ادویات تحریر کرتے وقت احتیاط سے کام لیں۔
اُنھوں نے کہا کہ 540000سے زائد صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ افراد اگلے دو برس کے اندر اندر ضروری تربیت حاصل کریں۔

XS
SM
MD
LG