رسائی کے لنکس

اہل کاروں نے بارہا کہا ہے کہ اوباما ڈیموکریٹک پارٹی کو متحد کرنے میں انتہائی دلچسپی لیتے ہیں، اور وہ نامزد صدارتی امیدوار کی انتخابی مہم چلانے کے بے تابی سے منتظر ہیں۔ تاہم، وائٹ ہائوس نے کہا ہے کہ وہ تب تک حمایت کا اعلان نہیں کریں گے جب تک وہ سینٹر برنی سینڈرز سے جمعرات کو ملاقات نہ کر لیں

براک اوباما عہدے پر فائز پہلے امریکی صدر ہیں جو کئی عشروں بعد اپنے جانشین کی انتخابی مہم پر اثرانداز ہونے کی کلیدی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اُن کی مقبولیت کا درجہ 50 فی صد سے بھی زیادہ ہے۔

انتظامیہ کے اہل کاروں نے بارہا کہا ہے کہ اوباما ڈیموکریٹک پارٹی کو متحد کرنے میں انتہائی دلچسپی لیتے ہیں، اور وہ نامزد صدارتی امیدوار کی انتخابی مہم چلانے کے بے تابی سے منتظر ہیں۔ تاہم، وائٹ ہائوس نے کہا ہے کہ وہ تب تک حمایت کا اعلان نہیں کریں گے جب تک وہ سینٹر برنی سینڈرز سے جمعرات کو ملاقات نہ کر لیں۔

اوباما نے یہ بات فلوریڈا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے حالیہ ’فنڈریزر‘ کے دوران حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ بقول اُن کے، ’’ہمیں یہ بات یقینی بنانی ہے کہ ہم انتخابی عمل میں بہتری لائیں‘‘۔

اُن کے الفاظ میں ’’ہم اپنی بیش بہا پیش رفت کو سطحی طور پر نہیں لے سکتے، جسے ہم نے معیشت، سلامتی کے ہر شعبے میں حاصل کیا ہے؛ معاشرہ جو برداشت کا زیادہ قائل ہے اور متنوع آبادی کو زیادہ قبول کرتا ہے۔ ہمیں بہت سی باتوں کو فروغ دینا ہے‘‘۔

سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن، جنھوں نے فیصلہ کُن پرائمری کامیابی کے بعد منگل کو ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی نامزدگی جیتی ہے، اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اوباما کے کام کو اُن کے عہدہ صدارت سے آگے لے جانے اور اُن کے ورثے کو جِلا بخشنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

ری پبلیکن پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار، ڈونالڈ ٹرمپ کے متنازعہ بیانات کے توڑ کے لیے، اوباما انتخابی مہم میں اترنے پر تیار ہیں۔

ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے رہنمائوں نے اُن کے بیانات کو ’’منقسم اور نسل پرستانہ‘‘ قرار دیا ہے اور صدر نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے خارجہ پالیسی سے متعلق بیانات پر عالمی رہنما ’’پریشانی‘‘ کا اظہار کر رہے ہیں۔

اس بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے کہ نومبر کے صدارتی انتخابات جیتنے کے لیے ضروری ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کو متحد رکھا جائے، امریکی سربراہ نے فوری طور پر کلنٹن کی نامزدگی کی توثیق نہیں کی، جب اُنھوں نے منگل کو فیصلہ کُن پرائمری میں کامیابی حاصل کی۔

برعکس اس کے، اوباما نے کلنٹن اور اُن کے ٖڈیموکریٹک مد مقابل، برنی سینڈرزکو ٹیلی فون کیا۔

ورمونٹ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کو لاکھوں ووٹروں کی حمایت حاصل ہے، خاص طور پر وہ جن کی عمر 30 برس سے کم ہے۔ اُنھوں نے واشنگٹن میں خصوصی مفادات کے حربوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور امریکہ میں بڑھتی ہوئی آمدن کی عدم مساوات کا مقابلہ کرنے کا پیغام عام کیا ہے۔

پریس سکریٹری جوش ارنیسٹ کے بیان کے مطابق، سینڈرز کی درخواست پر، اوباما جمعرات کے روز وائٹ ہائوس میں سینیٹر سے ملاقات کریں گے، تاکہ اس بات پر غور کیا جاسکے کہ اُن کی جانب سے لاکھوں ڈیموکریٹک ووٹروں کو اپنے ساتھ رکھنے کے غیرمعمولی کارنامے کو آگے بڑھانے، اور آئندہ ہفتوں اور مہینوں کے دوران اِسی جذبے کو لے کر آگے چلنے میں مدد دی جاسکے‘‘۔

ایسے میں جب صدر نے پورے اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی اس قابل ہے کہ وہ وائٹ ہائوس کے عہدے اور دیگر کلیدی مقابلوں میں کامیابی حاصل کرسکے، اُنھوں نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ پورا وقت فکرمندی میں گزار دیا جائے۔

اوباما نے کلنٹن کو ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی نامزدگی کے لیے ڈیلیگیٹس کی درکار تعداد کے حصول پر مبارکباد دی ہے۔

XS
SM
MD
LG