رسائی کے لنکس

اوباما صدارت کا ایک سال اور امریکی اقتصادیات


اوباما صدارت کا ایک سال اور امریکی اقتصادیات

اوباما صدارت کا ایک سال اور امریکی اقتصادیات

صدر اوباما کو جو معیشت ورثے میں ملی وہ تباہی سے دوچار تھی- لیکن انھوں نے عہدکیا کہ وہ معیشت کی بحالی کے لیے وہ سب کچھ کریں گے جو ان کے اختیار میں ہے۔اب ایسا لگتا ہے کہ صدر عظیم کساد بازاری کے بعد سے اب تک کے بد ترین مالیاتی بحران سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ لیکن اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ بہتر ہوتی ہوئی معیشت کے باوجود یہ تکلیف دہ حقیقت برقرار ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک امریکی اب بھی بے روزگار ہے یا اس نے روزگار تلاش کرنا ہی چھوڑ دیا ہے ۔

جنوری 2009 کی ایک تابناک صبح امریکی کانگریس کی عمارت کے سامنے جب ریکارڈ تعداد میں لوگ جمع ہوئے تو یہ وہ زمانہ تھا جب امریکہ کی مالیاتی منڈیوں میں قیمتیں تیزی سے نیچے آ رہی تھیں اور ہر مہینے چھ لاکھ امریکیوں کو ملازمتوں سے جواب مِل رہا تھا۔ شدید سردی کے باوجود بہت سے لوگ اس تاریخ ساز لمحے کا مشاہدہ کرنے کے لیے موجود تھے۔ بعض لوگ اس مشکل وقت میں امید کا کوئی پیغام سننا چاہتے تھے۔

اس موقع پر صدر اوباما نے کہا’’آج میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمیں جو مسائل در پیش ہیں وہ بڑ ے سنگین ہیں اور تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔ ہم ان کا سامنا آسانی سے یا مختصر وقت میں نہیں کر سکیں گے ۔ لیکن میں امریکیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ انہیں حل کیا جائے گا۔‘‘

باراک اوباما کے امریکہ کے چوالیسویں صدر بننے تک 30 لاکھ امریکیوں کے روز گار اس دور کی عظیم کساد بازاری کی نذرہو چکے تھے ۔ اگلے ایک سال میں یہ تعداد دگنی ہو نے والی تھی۔

کاریں بنانے کی صنعت فیل ہورہی تھی، بنکوں نے امریکیوں کو قرضے دینا بند کر دیا تھا اور ریکارڈ تعداد میں امریکی اپنے گھروں سے محروم ہو رہے تھے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ صارفین، جو امریکی معیشت کی اساس ہیں، پیسہ خرچ کرنے کے موڈ میں نہیں تھے۔لیکن ماہر معاشیات ایلیس رِولِنAlice Rivlin کے مطابق ایک سال بعد اوباما انتظامیہ کے زور دار اقدامات کے باعث ایسا لگتا ہے کہ معیشت کا انحطاط رُک گیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں جتنے مشکل حالات ورثے میں ملے تھے انھیں دیکھتے ہوئے صدر کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے ۔

معیشت کو تباہی سے بچانے کے لیے انتظامیہ نے چند بنکوں کو مدد دینے کے ایک متنازع منصوبے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ بنک تھے جن کے بارے میں خیال تھا کہ وہ اتنے بڑے ہیں کہ انہیں فیل نہیں ہونے دیا جا سکتا تھا۔ قرضوں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے فیڈرل ریزرو بنک نے سود کی شرح کم کردی۔

امریکی کانگریس نے مالیاتی نظام کو مستحکم کرنے اور روزگار کے مواقع میں تیزی سے اضافے کے لیے تقریباً 800 ارب ڈالر کا stimulus پروگرام منظور کر دیا۔ ایلیس کہتی ہیں کہ ان تمام اقدامات کی بدولت معیشت کا انحطاط رُک گیا ۔ اب معیشت میں ٹھہراؤ آرہا ہے اور امید ہے کہ اگلے سال حالات بہتر ہوجائیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ وال اسٹریٹ کا اعتماد بحال ہو رہا ہے اور اس سال کے آخر میں بازار حصص کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے وہ 2003 کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ ہے ۔جن بنکوں نے Troubled Asset Relief Program کے تحت رقوم وصول کی تھیں انھوں نے بھاری منافع کمایا اور اربوں ڈالر کے قرضے واپس کر دیے ۔

اس طرح فیڈرل ریزرو کو 46 ارب ڈالر کا ریکارڈ منافع ہوا۔لیکن یہ سب کچھ کس قیمت پر حاصل ہوا ہے؟ صدر کے عہدہ سنبھالنے کے ایک سال بعد بے روزگاری دس فیصد تک پہنچ گئی ہے اور بجٹ کا خسارہ 1.4 کھرب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔

اگر 2010 میں امریکہ کی قومی پیداوار میں اضافہ ہو جائے اور مزید امریکیوں کو روزگار مل جائے تو بھی صدر کے حامی اور ان کے مخالفین دونوں کہتے ہیں کہ ملک کے اقتصادی مستقبل کے لیے ایک زیادہ سنگین خطرہ موجود رہے گا۔ وہ خطرہ ہے تیزی سے بڑھتا ہوا خسارہ اور ملک پر بھاری قرضہ جو اندازاً 12 کھرب ڈالر تک پہنچ گیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے 12 کا عدد جس کے بعد 12 صفر لگتے ہیں، یا دوسرے الفاظ میں امریکہ میں رہنے والے ہر مرد، عورت اور بچے پر تقریباً 40 ہزار ڈالر کا قرض ہے۔

XS
SM
MD
LG