رسائی کے لنکس

جاپانی حکام کی مبینہ نگرانی پر اوباما کا اظہار 'افسوس': جاپان


صدر اوباما (فائل فوٹو)

صدر اوباما (فائل فوٹو)

جاپان کی حکومت کے ترجمان کے بقول وزیراعظم نے اس معاملے پر اپنے "شدید تحفظات" کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات دونوں اتحادیوں کے درمیان اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتے ہیں۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے جاپان کے اعلیٰ حکام کی مبینہ امریکی نگرانی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ٹوکیو میں حکومت کے ترجمان یوشیہی ہائڈ سوگا نے بتایا کہ یہ بات امریکی صدر اور جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے کے مابین ٹیلی فون پر رابطے کے دوران ہوئی۔

"صدر اوباما نے کہا کہ انھیں افسوس ہے۔۔۔جیسا کہ اس معاملے کی وجہ سے جاپان میں بڑی بحث شروع ہوئی۔"

ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ صدر اوباما نے خاص طور پر جاسوسی کی تصدیق کی یا نہیں۔

ان کے بقول وزیراعظم نے اس معاملے پر اپنے "شدید تحفظات" کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات دونوں اتحادیوں کے درمیان اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتے ہیں۔

تاحال وائٹ ہاؤس نے اس ٹیلی فونک گفتگو پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

متعدد خفیہ معلومات کو افشا کرنے والی ویب سائیٹ وکی لیکس نے گزشتہ ماہ ایسی دستاویزات شائع کی تھیں جس میں ظاہر کیا گیا تھا کہ امریکہ نے جاپان میں 35 کمپنیوں، حکومتی وزارتوں اور شخصیات کی جاسوسی کی۔

وکی لیکس کا کہنا تھا کہ یہ مداخلت امریکہ اور جاپان کے تعلقات، تجارتی مذاکرات اور ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق حکمت عملی کے موضوعات میں کی گئی۔

یہ جاسوسی سے متعلق افشا کی گئی نئی معلومات تھیں جب کہ اس سے قبل منظر عام پر آنے والی خفیہ معلومات کی واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں تناؤ کا سبب بن چکی ہے۔

جون میں وکی لیکس نے ایسی دستاویزات جاری کی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ نے فرانس کے تین سابق صدور کی نگرانی کی تھی۔ اس کے بعد صدیوں پرانے دوستانہ تعلقات کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG