رسائی کے لنکس

صدر اوباما کا پہلا سال: پاک افغان پالیسی


صدر اوباما کا پہلا سال: پاک افغان پالیسی

صدر اوباما کا پہلا سال: پاک افغان پالیسی


ایک سال پہلے آج ہی کے دن امریکہ میں صدارت کی تبدیلی نے اس ملک کی خارجہ پالیسی کا رخ عراق سے ہٹا کر پاکستان اور افغانستان کی طرف موڑ دیا تھا۔ نئی پالیسی کے تحت پاکستان کو پانچ سال کے لیے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم دینے کا وعدہ کیا گیااور افغانستان کی تعمیر نو کے لئے وہاں کے امریکی سفارتخانوں میں سویلین عملے کی تعداد بڑھا دی گئی۔ صدر اوباما کے اپنے عہدے پر پہلے ایک سال کےدوران امریکہ کی اصل توجہ پاک افغان خطے میں دہشت گردی کے خاتمے پر ہی مرکوز رہی۔ پاکستان اور افغانستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے صدر اوباما کا پہلا سال کیسا رہا؟آئیے جائزہ لیتے ہیں۔

ایک سال پہلے حلف برداری کے بعد اپنے پہلے خطاب میں صدر اوباما نے ایک وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم ذمہ داری کے ساتھ عراق کو اس کے اپنے عوام کے سپرد کرنا شروع کریں گے اور افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوشش کریں گے-

لیکن وہ امن ابھی قائم نہیں ہوا تھا کہ امریکی قیادت میں افغانستان میں لڑنے والی اتحادی فوج کو جنوبی افغانستان میں طالبان کی زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

طالبان جنگجووں کے مشتبہ ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں اضافہ ہوا، جس کا لازمی نتیجہ عام شہریوں کی ہلاکت کی خبروں پر سامنے آنے والا عوامی رد عمل تھا۔ مارچ کے آخر میں صدر اوباما نے افغانستان کے بارے میں پہلا باقاعدہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ تین سال تک، ہمارے کمانڈرز اپنی تربیتی ضروریات کے لئے وسائل بڑھانے کی بات کرتے رہے ہیں، مگر عراق جنگ کے باعث ایسا ممکن نہیں تھا، مگر اب صورتحال تبدیل ہوگی۔

صدر اوباما نے چند ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کا حکم دیا اور شہری اموات میں کمی لانے کی ہدایت کے ساتھ افغانستان میں امریکہ کی فوجی کمان تبدیل کر کے جنرل سٹینلے میکرسٹل کے سپرد کردی۔

ادھر پاکستان میں طالبان نے امن معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلام آباد سے ساٹھ کلومیٹر دور وادئی سوات میں نفاذ شریعت کے نام پر لوگوں کو کوڑے لگانے اور لڑکیوں کے سکول بند کرنے جیسے اقدامات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ نیتجتاً پاکستانی فوج کو سوات میں فوجی کارروائی کا آغاز کرنا پڑا۔ طالبان اور فوج کے درمیان ایک مہینے سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والے اس آپریشن نے 25 لاکھ افراد کو جان بچانے کے لئے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

2009ء کے وسط تک امریکہ کو اعتراف کرنا پڑا کہ پاکستانی فوج نے ملک کے شمال مغرب میں طالبان کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ امریکہ نے اسلام آباد پر وزیرستان کے قبائلی علاقے میں کارروائی اور ان جنگجووں کے خلاف کارروائی کے لئے دباؤ بڑھانا شروع کیا جن کے افغانستان میں سرگرم شر پسندوں سے روابط تھے۔ اکتوبر میں پاکستان میں دہشت گردی کی زبردست لہر کے بعد پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان میں ان طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کا اعلان کیا، جو پاکستان میں سرگرم عمل تھے۔

مگرامریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائیک مولن کہتے ہیں کہ پاکستان کو طالبان کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید بڑھانے کی ضرورت ہے، اور ان طالبان کے خلاف بھی کارروائیاں کرنے کی ضرورت ہے جو افغانستان سے فرار ہو کر شمالی وزیرستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوجیوں کو مارنے والے وہی طالبان ہیں، وہی ہیں جو افغانوں کو مار رہے ہیں، وہی طالبان ہیں جو ہمارے اتحادی افواج کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اس لئے پاکستان کو تمام شدت پسند گروپوں پر دباو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

دسمبر کےآخر میں اوباما انتظامیہ کو نئے سرے سے یہ تسلیم کرناپڑا کہ پاکستان کے طالبان عناصر افغانستان میں اپنے ساتھیوں کی مدد کے لئے اتحادی افواج پر کامیاب حملوں کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔ ایک خودکش بمبار نے مبینہ طور پر پاکستانی طالبان رہنما بیت اللہ محسود کی ایک میزائل حملے میں ہلاکت کا بدلہ لینے کے لئے افغانستان میں امریکی خفیہ ادارے کے سات اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ سی آئی اے کے افغان مرکز پر حملے کی ذمہ داری افغان اور پاکستانی طالبان دونوں نے قبول کی۔

صدر اوباما کے اعلان کے مطابق افغانستان میں مزید 30 ہزار امریکی فوجی بھیجنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، اور اوباما انتظامیہ اس ا مید کا اظہار کر رہی ہے کہ 30 ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان میں قیام امن اور افغان سیکیورٹی کی ذمہ داریاں اس کی اپنی فوج اور پولیس کے سپرد کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مگرماہرین کا کہنا ہے کہ اس کام کے لئے افغانستان اور پاکستان کے ساتھ امریکہ کے مضبوط تعلقات اور اعتماد سازی بنیادی شرط ہوگی۔

XS
SM
MD
LG