رسائی کے لنکس

عالمی معیشت تباہی کے دہانے سے واپس:اوباما

  • ڈین روبنسن

صدر اوباما نے ٹورنٹو روانگی سے قبل وائٹ ہاؤس میں بیان دیتے ہوئے اُن اقدامات کا حوالہ دیا جو لندن اور گذشتہ برس پِٹسبرگ میں ہونے والے G20سربراہ اجلاس میں کیےگئے، اور جِن کے بارے میں صدر نے کہا کہ اِن اقدامات کی وجہ سے عالمی معیشت تباہی کے دہانے سے واپس آگئی۔

صدر نے کہاG8اور وسیع تر گروپG20میں شامل ملکوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے مربوط کوشش کریں اور اِس بات کو یقینی بنانے کے لیے مالیاتی اصلاحات کریں کہ ترقی کے اِس عمل کو نقصان نہیں پہنچے گا۔صدر نے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اُن کے الفاظ میں: ‘اِس بحران نے یہ ثابت کردیا ہے اور بعد میں ہونے والے واقعات سے اِس کی توثیق ہوئی ہے کہ ہماری قومی معیشتیں ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ چونکہ ایک جگہ پر ہونے والی اقتصادی ابتری دوسرے مقامات کو بھی متاثر کرتی ہے، اِس لیے ہمارے ملکوں میں معاشی تحفظ کے لیے اُٹھائے جانے والے اقدام تمام ملکوں میں اقتصادی عمل میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔’

صدر اوباما ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے مذاکرات کاروں کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے سے تقویت کے ساتھ ٹورانٹو پہنچے۔ سمجھوتے کے لیے کیپٹل ہِل پر کئی ماہ تک اِس مسودہٴ قانون کو حتمی شکل دینے کی کوششیں کی گئیں جِس کے تحت امریکی مالیاتی نظام کی اصلاح درکار ہے۔کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اِس مسودہٴ قانون کی منظوری کے بعد ہی صدر اِس پر دستخط کریں گے۔

یہ پیش رفتG20اجلاس میں صدر کی معاونت کرے گی، پھر بھی اُنھیں اقتصادی اور مالیاتی مبصرین کے مطابق بدلتے ماحول میں اہم چیلنجوں کا سامنا ہے۔

یورپ اور دنیا بھر میں بحٹ خساروں اور قرضوں کے ساتھ ساتھ یونان میں مالی بحران کے بارے میں پیدا ہونے والے خدشات کے ساتھ ایک بڑا سوال اُٹھتا ہے کہ خسارے میں کمی کے مقابلے میں اخراجات کے سوال پر کس حد تک اتفاق ممکن ہو سکتا ہے۔

صدر اوباما نے G8اورG20ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ اقتصادی ترقی کو تحریک دینے کے لیے اخراجات میں کمی نہ کریں لیکن جرمنی، برطانیہ، فرانس جیسے کلیدی مغربی ممالک اور میزبان کینیڈا قرضے اور سرکاری خسارے میں کمی پر توجہ مرتکز کررہے ہیں۔

ٹورانٹو کے مضافات میں ہنٹس ویل اونٹاریو میں صدر اورG8کے دوسرے لیڈران آج جمعے کے روز ترقیاتی امور پر تبادلہٴ خیال کر رہے ہیں۔ اُن کے ساتھ افریقہ کے سات لیڈرز بھی ہیں جِن میں جنوبی افریقہ، نایجیریا اور اتھیوپیا شامل ہیں۔

G8لیڈرز ہفتے کے روز بحث کا موضوع امن اور سلامتی کے امور کو بنا رہے ہیں جِن میں ایران، شمالی کوریا، افغانستان، پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کا عمل جیسے موضوعات شامل رہیں گے جِس کے بعد ٹورانٹو میں وسیع پیمانے پر G20سربراہ اجلاس کا آغاز ہوگا۔صدر اوباما ہفتے کے روز دوطرفہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی شروع کررہے ہیں۔


وہ پہلی بار، برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ ملاقات کریں گے اور ایشیا، بحر الکاہل کے لیڈروں سےبھی اُن کی بات چیت ہوگی جِن میں جنوبی کوریا کے صدر لِی میونگ بک اور چین کے صدر ہُو جِن تاؤ بھی شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG