رسائی کے لنکس

امریکی صدر کی حلف برداری: ذمہ داریاں، ارادے اور خواب


نئے صدر کی حلف برداری ڈیڑھ سال سے جاری سیاسی عمل کے مکمل ہونےکی علامت ہوتی ہے۔ تقریبات کا روایتی اور علامتی مزاج سیاسی نظام کی مضبوطی اور تسلسل کی نشانی ہوتا ہے۔

امریکہ میں نومبر کے صدارتی انتخابات کے بعد آنے والے جنوری میں ملک کا نیا صدر اپنی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے۔ یا پہلے سے موجودہ صدر دوسری مدت کے لئے عہدے کا حلف اٹھاتا ہے۔

اس سال صدر کی تقریبِ حلف برداری 21 جنوری کو منعقد ہو رہی ہے، جب کہ 2009 میں جنوری کی 20 تاریخ کو صدر براک اوباما نے اپنے عہدے کی پہلی مدت کا حلف اٹھایا تھا۔

امریکہ میں صدارتی حلف برداری کی تاریخ 1789ء سے شروع ہوئی جب امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے اپنے عہد ے کا حلف اٹھایا تھا۔

حلف برداری کی تقریب امریکہ میں صدر کے عہدے کی مضبوطی اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر مارک روم کہتے ہیں کہ یہ امریکی عوام کے لئے علامتی طور پر ہی سہی، ایک طاقت ور لمحہ ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے، جب جمہوری طور پر منتخب ہونےو الا ایک صدر اپنا عہدہ چھوڑتا ہے اور جمہوری طریقے سے ہی منتخب ہونے والا دوسرا صدر اپنا عہدہ سنبھالتا ہے۔

جس صبح نئے صدر کو اپنا عہدہ سنبھالنا ہوتا ہے، وہ پہلے وائٹ ہاوس جاکر رخصت ہونے والے صدر سے ملاقات کرتا ہے۔ پھر وہ دونوں ایک ساتھ حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لئے جاتے ہیں جہاں اراکین کانگریس، سپریم کورٹ کے جسٹس، سابق انتظامیہ کے عہدیدار اور نئے صدر کی ٹیم کے اراکین ان کا استقبال کرتے ہیں۔

یہ استقبال نئے صدر کے لئے ان کی حمایت اورصدارتی ذمہ داریوں کی ایک سے دوسرے کو منتقلی کی علامت ہوتا ہے۔

صدارتی حلف دوپہر 12 بجے ہوتا ہے جو امریکی سپریم کورٹ کا چیف جسٹس لیتا ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر بین گنز برگ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی موجودگی کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ یعنی یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے کہ نیا صدر جو اختیارات حاصل کر رہا ہے، وہ امریکی آئین، قانون اور ان کے بنانے والوں کے اصولوں کے مطابق ہیں۔

نئے امریکی صدر کو 21 توپوں کی سلامی دی جاتی ہے، جس کے بعد وہ حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتا ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے مارک روم کہتے ہیں کہ دنیا کی نظریں صدر اوباما پر ہونگی۔ اور ہماری نظریں ان کے خطاب پر ہونگی کہ وہ اپنی صدارتی ذمہ داریوں کے بارے میں کیا وژن رکھتے ہیں۔

حلف برادری کی تقریب کے بعد امریکی صدر وائٹ ہاوس جاتا ہے اوراپنی حلف برداری پریڈ سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ پورے امریکہ سے عوام کے نمائندہ گروپ واشنگٹن آتے ہیں، تاکہ نئے چیف ایگزیکٹو کے لئے اپنی علامتی حمایت کا اظہار کریں۔

حلف برداری کی تقریبات رات گئے تک جاری رہتی ہیں، اور اکثر میں صدر اور خاتون اول شریک ہوتے ہیں۔ امریکی صدر کی ذمہ داریوں کو چیلنجنگ قرار دیاجاتا ہے، لیکن اس چیلنج کا آغاز کچھ خوابوں اور ارادوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG