رسائی کے لنکس

صدر اوباما کی وزیرِاعظم نواز شریف کو دورہ امریکہ کی دعوت


فائل

فائل

صدر اوباما کی جانب سے یہ دعوت ان کی مشیر برائے قومی سلامتی سوزن رائس نے پاکستانی وزیرِاعظم تک پہنچائی جنہوں نے اتوار کو اسلام آباد میں نواز شریف سے ملاقات کی۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف کو آئندہ ماہ اکتوبر میں امریکہ کے دورے کی دعوت دی ہے۔

صدر اوباما کی جانب سے یہ دعوت ان کی مشیر برائے قومی سلامتی سوزن رائس نے پاکستانی وزیرِاعظم تک پہنچائی جنہوں نے اتوار کو اسلام آباد میں نواز شریف سے ملاقات کی۔

سوزن رائس کے دورۂ پاکستان کے اختتام پر ان کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اوباما نے پاکستان کے وزیرِاعظم کو 22 اکتوبر کو وہائٹ ہاؤس مدعو کیا ہے۔

بیان کے مطابق دورے کا مقصد پاک -امریکہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

اپنے دورے کے دوران امریکی مشیر برائے قومی سلامتی نے وزیرِاعظم نواز شریف کے علاوہ اپنے پاکستانی ہم منصب سرتاج عزیز، پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ملاقاتوں میں فریقین نے مختلف علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون جاری رکھنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

بیان کےمطابق امریکی مشیر نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان حال ہی میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کی معاونت کو سراہا اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کی فضا یقینی بنانے کے لیے اپنی حدود میں قائم دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرے۔

سوزن رائس کے ترجمان کے مطابق امریکی مشیر نے اپنے دورے کے دوران پاکستانی سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی جس میں انہوں نے انسانی حقوق، ترقی اور شہری آزادیوں کے لیے ان کی جدوجہد کو سراہا اور اس ضمن میں انہیں ہر ممکن امریکی مدد کی یقین دہانی کرائی۔

سوزن رائس کے دورہ پاکستان کی تکمیل پر امریکہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے باضابطہ بیان میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جو کئی حلقوں کے لیے باعثِ حیرت ہے۔

سوزن رائس کی پاکستان آمد سے قبل مقامی ذرائع ابلاغ میں قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ امریکی مشیر کا یہ دورہ پاک بھارت تعلقات میں در آنے والی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ہو رہا ہے۔

لیکن امریکی محکمۂ خارجہ نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ دورہ کئی ہفتے پہلے طے کیا گیا تھا جس کا موجودہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں۔

XS
SM
MD
LG