رسائی کے لنکس

سال کے آخر تک عراق سے تمام امریکی فوجی واپس بلانے کا اعلان


صدر اوباما عراق سے فوجوں کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے

صدر اوباما عراق سے فوجوں کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے

سنہ 2008 میں طے پانے والی اس ڈیڈلائن میں توسیع کے معاملہ پر صدر اوباما اور وزیرِاعظم المالکی کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں تعینات تمام امریکی فوجیوں کو سالِ رواں کے اختتام تک واپس بلالیا جائے گا۔

صدراوباما نےاس فیصلہ کا اعلان جمعہ کوعراق کے وزیرِا عظم نوری المالکی کےساتھ ویڈیو کانفرنس کے بعد وہائٹ ہائوس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ "عراق میں موجود ہمارے فوجیوں کی چھٹیاں منانے کے لیے گھروں کو واپسی ضروری ہے"۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کے انخلا کے فیصلے پر ان کے اور عراقی وزیرِاعظم کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عراق کے ساتھ امریکہ کے تعلقات باہمی تعاون اور اعتماد کے ایک "نئے دور" میں داخل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک ایسے عراق کے ساتھ اشتراکِ عمل جاری رکھے گا جو خطے میں سلامتی اور امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن کی خواہش ہے کہ دیگر ممالک عراقی خود مختاری کا احترام کریں۔

اس سےقبل یہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ امریکی افواج کے عراق سے انخلا کے لیے 31 دسمبر 2011ء کی ڈیڈلائن کے باوجود بعض امریکی فوجی دستوں کے عراق میں قیام میں توسیع کردی جائے گی۔

سنہ 2008 میں طے پانے والی اس ڈیڈلائن میں توسیع کے معاملہ پر صدر اوباما اور وزیرِاعظم المالکی کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ مارچ 2003ء میں شروع ہونے والی جنگِ عراق امریکی تاریخ کی چند طویل ترین جنگوں میں سے ایک ہے جس کے دوران 4400 سے زائد امریکی فوجیوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔

XS
SM
MD
LG