رسائی کے لنکس

اعتماد سازی کے لیے اسرائیل اور فلسطینیوں کو مزید کوشش کرنی چاہیئے: اوباما


اعتماد سازی کے لیے اسرائیل اور فلسطینیوں کو مزید کوشش کرنی چاہیئے: اوباما

اعتماد سازی کے لیے اسرائیل اور فلسطینیوں کو مزید کوشش کرنی چاہیئے: اوباما

امریکی صدربراک اوباما نے مشرقِ وسطیٰ امن عمل کے حوالےسےاسرائیل اور فلسطینیوں کی طرف سےضروری اعتماد سازی پیداکرنے کے لیےدرکار مزید کوشش نہ کرنےپرنکتہ چینی کرتے ہوئےبڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کیا ہے۔


منگل کو انڈونیشیا میں اپنے خطاب میں مسٹر اوباما نےمتنازعہ مشرقی یروشلم میں 1300نئے اپارٹمنٹس تعمیر کرنے کے اسرائیل کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن مذاکرات کے دوران اِس قسم کی کارروائی کبھی مددگار ثابت نہیں ہواکرتی۔

اسرائیل نے پیر کو تعمیر کے منصوبے کا ایسے وقت آغاز کیا جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجامن نتن یاہو کا امریکہ کے پانچ روزہ دورے کا دوسرا دِن ہے۔

ایک بیان میں وزیرِ اعظم بینجامن نتن یاہو کے دفتر نے زور دے کر کہا کہ‘ یروشلم کوئی آبادکاری کا معاملہ نہیں۔ یہ اسرائیل کی ریاست کا دارالحکومت ہے۔’

تاہم امریکی محکمہٴ خارجہ اور اقوامِ متحدہ دونوں نے اسرائیلی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

فلسطینی مشرقی یروشلم کو مستقبل کی اپنی آزاد ریاست کا دارالحکومت سمجھتے ہیں۔

فلسطینی عہدے داروں نے بھی تعمیر کے منصوبے کی مذمت کی ہے جِس میں مشرقی یروشلم کے ‘ہار ہومہ’ قصبے میں 978اپارٹمنٹس جب کہ ‘رَموت ’ نامی قصبے میں 320نئے اپارٹمنٹس کی تعمیر کا کہا گیا ہے۔

محکمہٴ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جمعرات کو نیو یارک میں مسٹر نتن یاہو کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن اِس معاملے پر بات چیت کریں گی۔ ترجمان نے گمان ظاہر کیا کہ اسرائیل میں بیٹھے کسی شخص نے تعمیرات کے اعلان کا ایسا وقت چنا جس کے باعث امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے وزیر اعظم کے لیے مشکلات کھڑی ہوں اور امن عمل کو نقصان پہنچے۔

اوباما انتظامیہ بستیوں کی تعمیر کو روکنے کے سلسلے میں اسرائیل پر زور دیتی رہی ہے۔ اِس معاملے پر تنازعے کے وجہ سے مشرقِ وسطیٰ امن مذاکرارت رُکے ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG