رسائی کے لنکس

اوباما، کرزئی کا مضبوط افغانستان کےعزم کا اعادہ


بات چیت، القاعدہ اور دیگر انتہا پسند گروپوں سے نبرد آزما ہونے، افغان افواج اور افغان حکمرانی کو مضبوط کرنے پر مرکوز رہی: صدرکرزئی

امریکی صدر براک اوباما اور اُن کے افغان ہم منصب حامد کرزئی نے بدھ کے روز یگانگت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ طویل المدت سٹریٹجک ساجھے داری کے عزم پر قائم ہیں۔

مذاکرات کے بعد وائیٹ ہاؤس میں اپنے کلمات میں مسٹر اوباما نے کہا امریکہ اور افغانستان کے درمیان تناؤ کی بات، اُن کے بقول، خیالی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ دونوں ممالک محفوظ اور مستحکم افغانستان کے ہدف کے حصول کے لیے پُرعزم ہیں۔

مسٹر کرزئی نے اپنی انتظامیہ کے بارے میں بڑھتی ہوئی مبینہ بدعنوانی کا ذکر کیے بغیر تسلیم کیا کہ، اُن کے بقول، افغانستان میں باعثِ تشویش معاملات اور کوتاہیاں ہوئی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ صدر اوباما کے ساتھ اُن کے مذاکرات تعلقات کی مضبوطی کا سبب بنے ہیں۔

اُن کی بات چیت، القاعدہ اور دیگر انتہا پسند گروپوں سے نبرد آزما ہونے، افغان افواج اور افغان حکمرانی کو مضبوط کرنے پر مرکوز رہی۔

مذاکرات کے بعد اخباری بریفنگ میں مسٹر اوباما نےافغانستان میں ترقی کی نشاندہی کی ، بشمول طالبان بغاوت کی تیزی میں کمی آنے کے۔ لیکن، اُنھوں نے کہا کہ چیلنجز اب بھی باقی ہیں۔

امریکی صدر نے اتحادی افواج کی طرف سے افغان شہری آبادی کی ہلاکتوں میں کمی کا عہد کیا، جو معاملہ افغان رہنما کے لیے خاص تشویش کا باعث تھا۔

صدر کرزئی نے افغانستان کے لیے امریکی حمایت پر اپنی شکرگزاری کا اظہار کیا، بشمول اُن قربانیوں کے جو بغاوت کے انسداد کے لیے امریکی افواج دے رہی ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے افغانوں کی طرف سے قومی سکیورٹی فورسز میں نچلی سطح کے طالبان سپاہیوں اور افسروں کو دوبارہ شامل کرنے کی کوششوں پربات کی۔ صدر اوباما نے مفاہمت کی کوششوں کی حمایت کرنے کا عہد کیا، لیکن اُنھوں نے کہا کہ طالبان اراکین کو شدت پسندی کی مذمت اور افغان آئین کی پاسداری کے خواہش ظاہر کرنی ہوگی۔

XS
SM
MD
LG