رسائی کے لنکس

اوباما کا جنوبی کوریا کے صدر کے ساتھ کار ساز فیکٹری کا دورہ


اوباما کا جنوبی کوریا کے صدر کے ساتھ کار ساز فیکٹری کا دورہ

اوباما کا جنوبی کوریا کے صدر کے ساتھ کار ساز فیکٹری کا دورہ

امریکی کانگریس کی جانب سے رواں ہفتے منظور کیے جانے والے دوطرفہ تجارت کے نئے معاہدے کی ترویج کے لیے امریکہ اور جنوبی کوریا کے صدور کار سازی کی صنعت کے امریکی مرکز اور ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ پہنچے ہیں۔

صدر براک اوباما اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب لی میانگ بک کے ہمراہ ڈیٹرائٹ کے نواح میں واقع 'جنرل موٹرز' کی ایک فیکٹری کا دورہ کریں گے۔

'اورین ٹاؤن شپ' نامی علاقے میں واقع اس فیکٹری میں 'شیورلٹ سونک' کاریں بنائی جاتی ہیں جس میں جنوبی کوریائی ساختہ پرزہ جات استعمال ہوتے ہیں۔

'وہائٹ ہاؤس' کا کہنا ہے کہ دو برس قبل 'جنرل موٹرز' کو نادہندہ ہونے سے بچانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے تحت مذکورہ پلانٹ کو بند کرنے کے بجائے 'جنرل موٹرز کوریا' کے اشتراک سے چالو رکھا گیا تھا جس کے باعث 1750 افراد بےروزگار ہونے سے محفوظ رہے تھے۔

واضح رہے کہ ریاست مشی گن امریکہ کے حالیہ مالیاتی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے جہاں بے روزگاری کا تناسب 2ء11 فی صد ہے جو امریکہ میں بے روزگاری کی تیسرے نمبر پر بلند ترین شرح ہے۔

صدر اوباما کا موقف ہے کہ کانگریس کی جانب سے منظور کیے گئے 'فری ٹریڈ' معاہدے کی بدولت امریکی ساختہ گاڑیوں کی جنوبی کوریا کی منڈیوں تک رسائی ممکن ہوگی جس سے جہاں ایک جانب امریکی برآمدات میں 11 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوگا وہیں 70 ہزار ملازمتیں میسر آئیں گی۔

ایک آزاد امریکی ادارے 'انٹرنیشنل ٹریڈ کمیشن' کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے گزشتہ برس جنوبی کوریا کو صرف ساڑھے سات ہزار گاڑیاں برآمد کیں جبکہ اس کے مقابلے میں جنوبی کوریا سے امریکہ بھجوائی جانےوالی گاڑیوں کی تعداد 5 لاکھ 60 ہزار تھی۔

اس سے قبل جمعرات کو صدر اوباما اور خاتونِ اول مشیل اوباما نے جنوبی کوریا کے صدر میانگ بک اور ان کی اہلیہ کِم یون اوک کے اعزاز میں وہائٹ ہاؤس میں روایتی عشائیہ دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG