رسائی کے لنکس

قذافی کا عہد تمام ہوا: صدر اوباما


قذافی کا عہد تمام ہوا: صدر اوباما

قذافی کا عہد تمام ہوا: صدر اوباما

پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر نے کہا کہ لیبیا کی صورت حال میں غیر یقینی کا ایک عنصر موجود ہے اور اب بھی حکومت کے عناصر ہیں جو خطرے کا باعث بن سکتے ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ مسٹر قذافی کی حکومت ختم ہو رہی ہے جبکہ انہوں نے لیبیا کے لیڈر پر زور دیا کہ وہ اقتدار سے دستبردار ہو جائیں اور پر تشدد انتقامی کارروائیوں کے ذریعے حصول انصاف کی کوشش نہ کریں ۔

صدر نے مسٹر قذافی پر زور دیا کہ وہ مزید خونریزی سے گریز کریں اور اپنی وفادار فورسز کو جو مسلسل لڑ رہی ہیں ، لیبیاکی خاطر ہتھیار ڈال دینے کی ہدایت کریں ۔ انہوں نے حزب اختلاف کی فورسز پر بھی زور دیا کہ وہ پر امن اور مکمل طور پر منصفانہ طریقوں سے ایک جمہوری حکومت تشکیل دیں ۔

لیبیاکے دار الحکومت طرابلس میں باغیوں کے داخل ہونے کے بعد سے مسٹر اوباما نے اپنے پہلے بیان میں کہا کہ امریکہ لیبیاکی عبوری قومی کونسل کو جمہوریت کی طرف پر امن منتقلی میں مدد کرنے میں اس کا ایک دوست اور ساتھی ہو گا۔

پیر کی صبح اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون نے ایک سازگار منتقلی پر زوردیا اور کہا کہ اقوام متحدہ لیبیا کے لوگوں کو تنازعے کے بعد کےد ور میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ہفتے افریقی یونین اور عرب لیگ سمیت بڑی تنظیموں کے ساتھ لیبیا کے بارے میں ہنگامی اجلاس منعقد کریں گے ۔

پیرس میں فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے وی او اے کو بتایا کہ لیبیا میں مسٹر قذافی کا وقت اب ختم ہو گیا ہے ۔

اس سے قبل پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر نے کہا کہ لیبیا کی صورت حال میں غیر یقینی کا ایک عنصر موجود ہے اور اب بھی حکومت کے عناصر ہیں جو خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔

صدر اوباما نے کہا کہ چھ ماہ کے اندراندرمعمر قذافی کا 42برس طویل اقتدار ختم ہونے کو ہے۔ اِس سے قبل رواں سال لیبیا بھر میں پُرامن احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔

اُنھوں نے کہا کہ آزادی کی اِس لہر کا آغاز تیونس اور مصر میں ہوا جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور قذافی کی حکومت نے اِن مظاہروں کا جواب پُر تشدد کارروائیوں سے دیا۔ سڑکوں پر شہریوں کی لاشیں گرائی گئیں، اور لیبیا کے لوگوں کے خلاف ایک پُر تشدد مہم شروع کی گئی۔ قذافی نے پُر امن احتجاج کرنے والوں کو چوہوں کی طرح مارنے کی دھمکیاں دیں۔ جیسے جیسے اُن کی فوجوں نے ملک بھر میں محاذ سنبھالا خطرہ اِس بات کا تھا کہ بے قصور شہریوں کا قتلِ عام ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ یہی وقت تھا جب جارحیت کے مقابلے کے لیے بین الاقوامی برادری مدِ مقابل آئی۔

صدر نے کہا کہ، امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی ، اور عالمی ادارے نے لیبیا کے سویلینز کی حفاظت کی غرض سے کارروائی کا اختیار دیا۔ اِس کے بعد ایک بلا نظیر اتحاد وجود میں آیا جس میں امریکہ، نیٹو کے اتحادی ممالک اور عرب ملک شامل ہوئے اور مارچ میں بین الاقوامی برادری نے ایک ملٹری آپریشن کا آغاز کیا، تاکہ جانیں بچائی جاسکیں اور قذافی کی افواج کو پُر تشدد کارروائیوں سے روکا جاسکے۔

صدر نے کہا کہ اِسی دوران، عبوری قومی کونسل نےلیبیا ئی لوگوں کے معتبر نمائندے کی حیثیت سےاپنے آپ کو منوایا۔

صدر نے کہا کہ اپنے یورپی اتحادیوں اور خطے میں اپنے دوستوں کے ہمراہ ، امریکہ نےعبوری قومی کونسل کو لیبیا کی قانونی گورننگ اتھارٹی کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔

اِس کے بعد قذافی کو اسلحہ اور رقوم ملنا بند ہوگئیں اور اُن کی فوجیں ناکارہ ہوگئیں۔ بن غازی سے مصراتا اور مغربی پہاڑوں تک لیبیائی اپوزیشن نے دلیری سے حکومت کا مقابلہ کیا اور اِس طرح سے حالات نے اُن کے حق میں پلٹا کھایا۔

اُنھوں نے کہا کہ جوں جوں مخالفین نے مشرق سے مغرب تک ایک مربوط شکل اختیار کی، ایک قصبے کے بعد دوسرا قصبہ قبضے میں لیا گیا، اور طرابلس کے لوگ آزادی کے حق میں اُٹھ کھڑے ہوئے، گذشتہ کئی دِنوں سے لیبیا کی صورتِ حال فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔

صدر نے کہا کہ چار عشروں تک لیبیا کے لوگ ایک ظالم آمر کی حکمرانی میں جی رہے تھے جنھیں اپنے بنیادی انسانی حقوق سے بھی بھی محروم رکھا گیا۔

XS
SM
MD
LG