رسائی کے لنکس

ویتنام کو ہتھیاروں کی فروخت پر عائد پابندی ختم: اوباما


صدر اوباما ویتنام کے صدر کے ٹران ڈائی کوانگ کے ساتھ ہنوئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

صدر اوباما ویتنام کے صدر کے ٹران ڈائی کوانگ کے ساتھ ہنوئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔

اوباما نے کہا کہ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے زمانے سے باقی رہنے والی بارودی سرنگیں اور ایجنٹ اورنج کو صاف کرنے میں ویتنام کی حکومت کی مدد کر کے ’’جنگ کی تکلیف دہ وراثت کا بھی ازالہ‘‘ کرے گا۔

امریکہ نے ویتنام کو ہتھیاروں کی فروخت پر عائد پابندی اٹھا لی ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے ویتنام کے صدر ٹران ڈائی کوانگ کے ساتھ پیر کو ہنوئی میں ایک پریس کانفرنس میں اعلاں کیا کہ ’’امریکہ ویتنام پر فوجی سازوسامان کی فروخت پر پابندی کو ختم کر رہا ہے جو پچاس سال سے عائد ہے۔‘‘

اوباما نے کہا کہ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے زمانے سے باقی رہنے والی بارودی سرنگیں اور ایجنٹ اورنج کو صاف کرنے میں ویتنام کی حکومت کی مدد کر کے ’’جنگ کی تکلیف دہ وراثت کا بھی ازالہ‘‘ کرے گا۔

ویتنام جنگ کے دوران امریکی فورسز نے جنگلات میں پتوں کا صفایا کرنے کے لیے ایک خطرناک کیمیائی مرکب استعمال کیا تھا جس سے بعد میں ویتنام کے عوام اور امریکہ کے فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کو صحت کے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا جن میں پیدائشی نقائص، رسولیاں، جسم پر خارش اور دھبے اور کینسر شامل ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان تلخ جنگ کے کئی دہائیوں بعد پیر کی صبح صدر کوانگ نے ہنوئی میں صدارتی محل میں صدر اوباما کا ایک سرکاری تقریب میں خیر مقدم کیا۔

امریکی صدر نے اپنے ہم منصب اور دیگر سینیئر حکام سے پیر کو ملاقاتیں کیں جن سے مبصرین کے بقول اس وقت دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کا اندازہ ہوتا ہے۔

امریکہ کے ڈپٹی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر بین روڈز نے کہا کہ ’’یہ دورہ کئی معاملات پر امریکہ اور ویتنام کے درمیان شراکت داروں کی حیثیت سے تعلقات میں اہم پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘

صدر اوباما ویتنام کے تین روزہ دورے کے بعد جاپان جائیں گے۔

وہ جاپان میں ہیروشیما کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر ہوں گے جہاں 1945 میں امریکہ نے پہلا جوہری بم گرایا تھا۔

امریکی صدر نے جاپان کے سرکاری ٹیلی وژن ’این ایچ کے‘ سے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ اس بمباری پر معافی نہیں مانگیں گے۔

’’یہ تاریخ دانوں کا کام ہے کہ وہ سوالات پوچھیں اور ان کا جائزہ لیں مگر میں ساڑھے سات سال تک اس عہدے پر کام کرنے کے بعد یہ جانتا ہوں کہ ہر رہنما بہت مشکل فیصلے کرتا ہے، خاص طور پر جنگ کے دوران۔‘‘

XS
SM
MD
LG