رسائی کے لنکس

ٹیکسوں میں کٹوتی میری اولین ترجیح ہے: اوباما


ٹیکسوں میں کٹوتی میری اولین ترجیح ہے: اوباما

ٹیکسوں میں کٹوتی میری اولین ترجیح ہے: اوباما

مریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ قومی سلامتی کے لئےروس کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں میں کمی پر معاہدہ بہت اہمیت کا حامل ہے مگر ملک کے درمیانے طبقے کے لئے ٹیکسوں میں کٹوتی کے معاملے پر پہلے کام ہونا چاہیے۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ قومی سلامتی کے لئےروس کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں میں کمی پر معاہدہ بہت اہمیت کا حامل ہے مگر ملک کے درمیانے طبقے کے لئے ٹیکسوں میں کٹوتی کے معاملے پر پہلے کام ہونا چاہیے۔

صدر اوباما منگل کو اپنی پارٹی اور حزب اختلاف ری پبلیکن پارٹی کے کانگرس کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد اخباری نمائیندوں سے بات کر رہے تھے۔ یہ ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی۔

نومبر کے شروع میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ٕٕمخالف جماعت کے اراکین کانگرس سے یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔ ملاقات سے قبل صدر اوباما نے کہا تھا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ یہ ملاقات دونوں جماعتوں کے درمیان نئے اور زیادہ بامقصد تعلقات کی طرف پہلا قدم ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں کی کٹوتی ان بہت سے اقتصادی معاملات میں سے ایک ہے جن پر آنے والے مہینوں میں دونوں جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

صدر اوباما کا بیان ایسے وقت پر آیا ہے جب گزشتہ روز ہی انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو دو سال کے لئے منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ری پبلیکن پارٹی کے رہنما جان بینئر کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ٹیکسوں میں کٹوتی اور سرکاری اخراجات میں کمی جیسے اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔

ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کا معاہدہ یا STARTکے طے پانے سے روس اور امریکہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں میں 30فی صد کمی لاسکتے ہیں۔ صدر اوباما کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے سابق سفارتکاروں اور دفاعی عہدیداروں میں اس معاہدے کے لئے اتفاق پایا جاتا ہے۔ مگر ری پبلیکن پارٹی کے کچھ اراکین اس بارے میں تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے امریکی مزائل پر مبنی دفاعی نظام متاثر ہوگا۔

اس معاہدے کی منظوری کے لئے سینیٹ کے سو میں 67ووٹ درکار ہیں۔

XS
SM
MD
LG