رسائی کے لنکس

امریکہ اور بھارت تجارت، اسٹریٹجک تعاون مزید بڑھانے پر متفق


وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس

’وقت آگیا ہے کہ ایک نیا ایجنڈا ترتیب دیا جائے، تاکہ امریکہ بھارت تعلقات کو مزید وسعت اور گہرائی دی جا سکے۔۔۔۔ بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد کیا‘

امریکی صدر براک اوباما اور نئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیےمل کر کام کرنے کا عہد کیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نےمنگل کے روز وائٹ ہاؤس میں باہمی مذاکرات کیے؛ جس کے بعد، اخباری نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے، مسٹر مودی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دیا جائے گا، اور بھارتی مارکیٹ تک آسان رسائی کے لیے، بقول اُن کے، اُن کی حکومت نے ’پہلے ہی نہ صرف پالیسی بلکہ طریقہٴ کار میں بھی ضروری رد و بدل کیا ہے‘۔

مسٹر مودی نے کہا کہ توانائی، سول نیوکلیئر تعاون، دفاع، تحقیق، خلائی تسخیر، ایبولہ کے علاج کے سلسلے میں تعاون کو فروغ دینے پر سودمند بات چیت ہوئی۔

اُنھوں نے کہا کہ ’وسیع تر شعبوں میں، دونوں ممالک کے خیالات میں یکسانیت پائی گئی‘؛ اور دونوں رہنما باہمی تعاون کو فروغ دینے میں پُرعزم ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا پیسیفک کے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے پر بات ہوئی، جب کہ دہشت گردی، انسداد دہشت گردی اور افغانستان کی صورت حال زیر غور آئی۔

بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ متاثرہ ممالک میں ایبولہ کے بحران سے نمٹنے کے لیے بھارت 12 ملین ڈالر امداد دینے کا اعلان کر چکا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بھارت امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلقات کو تقویت دینے میں دلچسپی رکھتا ہے، اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں امریکی دفاعی کمپنیوں کے ماہرین کو بھارت آنے کی دعوت دی۔

’ڈبلیو ٹی او‘ کے سلسلے میں، اُنھوں نے کہا کہ اس موضوع پر بھی صدر اوباما سے گفتگو ہوئی اور یقین دلایا کہ بھارت آزاد کاروبار پر یقین رکھتا ہے؛ لیکن، درپیش مشکلات کو رفع کیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کا موضوع بھی دونوں ملکوں کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے، جس پر نہ صرف بات چیت ہوئی بلکہ اس سلسلے میں مل کر کام کرنے اور قریبی رابطوں پر زور دیا گیا۔

مسٹر مودی نے کہا کہ اُنھوں نے صدر اوباما کو دورہٴ بھارت کی دعوت دی، جسے، بقول اُن کے، صدر نے قبول کیا۔

اس موقعے پر اپنے کلمات میں، صدر اوباما نے کہا کہ مسٹر مودی کے ساتھ بات چیت کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام، سلامتی کے امور، مشرق وسطیٰ، دولت اسلامیہ، پُرتشدد انتہا پسندی، افغانستان، باہمی تجارت، میری ٹائم ضابطے، ایبولہ، سول نیوکلیئر تعاون، خلائی تسخیر اور طبی تحقیق جیسے موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

صدر اوباما نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین ’کثیر جہتی، طویل مدتی اور قریبی تعلقات قائم ہیں‘، جنھیں مزید تقویت دینے کی کوششیں کی جاری ہیں۔

اُنھوں نے بھارت کی طرف سے امن اور سکیورٹی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا، ’جن کے باعث نہ صرف دونوں ممالک بلکہ ساری بین الاقوامی برادری کو فائدہ ہو رہا ہے‘۔

صدر نے کہا کہ اُنھوں نے اور مسٹر مودی نے تعلیم میں بہتری لانے اور دونوں ممالک کے درمیان پیشہ وارانہ تربیت کے بنیادی ہدف سے اتفاق کیا۔

صدر اوباما نے بتایا کہ مسٹر مودی نے اُنھیں بھارتی عوام کی زندگی میں بہتری لانے کے اپنے نصب العین کی تفصیل پیش کی، جس کے بارے میں مسٹر اوباما کا کہنا تھا کہ ’متعدد بھارتی اب بھی انتہائی غربت کا شکار ہیں‘۔

امریکی صدر نے اِس امید کا اظہار کیا کہ ’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ بھارت تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہوں گے‘۔

بعدازاں، صدر براک اوباما کے ہمراہ، وزیر اعظم مودی نے نیشنل مال پر واقع مارٹن لوتھر کنگ کے یادگار کا دورہ کیا۔

پیر کی رات، صدر اوباما نے مسٹر مودی کے اعزاز میں عشائیہ دیا، جس مین دونوں رہنماؤں کے علاوہ وفود کے ارکان اور امریکہ اور بھارت کے اعلیٰ اہل کار، تاجر، صنعتکار اور نامور شخصیات شریک ہوئے۔

ملاقات سے قبل،اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع ایک خصوصی تحریر میں قائدین نے کہا کہ ’وقت آگیا ہے کہ ایک نیا ایجنڈا ترتیب دیا جائے‘ تاکہ امریکہ بھارت تعلقات کو مزید ’وسعت اور گہرائی‘ دی جا سکے۔

اُنھوں نے مینوفیکچرنگ اور قابلِ تجدید توانائی کے وسائل کے فروغ کے طریقہٴکار پر غور کیا، اور ساتھ ہی، بھارت میں صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کے میدان میں بنیادی خدمات میں بہتری لانے کے سلسلے میں بات کی۔

زیر غور آنے والے امور میں معاشی افزائش پر خصوصی توجہ مرتکز رہنے کی توقع ہے، جب کہ بھارت کی طرف مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے معیشت کو کھولنے میں ناکامی پر امریکہ کو تشویش ہے۔

ایسے میں جب بھارت امریکی سرمایہ کاری اور تکنیکی پارٹنرشپ کی بنا پر فروغ پانے والی شرح نمو سے استفادہ کر رہا ہے، دونوں رہنماؤں نے اِس خصوصی تحریر میں کہا ہے کہ ایک مضبوط اور زیادہ خوش حال بھارت، امریکہ کے مفاد میں ہے۔

دونوں رہنماؤں نے انسدادِ دہشت گردی اور قانون کے نفاذ کے سلسلے میں کیے جانے والے تعاون کی بھی نشاندہی کی، اور ساتھ ہی صحت سے متعلق تحقیق، خواتین کو بااختیار بنانے کے ضمن میں مل کر کام کرنے کا عزم کیا؛ اور افریقہ اور افغانستان میں خوراک کو محفوظ بنانے کے ضمن میں استعداد بڑھانے کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم کیا، جہاں امریکہ اپنے لڑاکا فوجی کردار میں کمی لارہا ہے۔

مسٹر مودی نے مئی میں انتخابات جیتے تھے اور اُن کا یہ امریکہ کا پہلا دورہ ہے۔

اس دورے سے تقریباً ایک عشرہ قبل، امریکہ نے اُنھیں ویزا جاری کرنے سے انکار کیا تھا، کیونکہ اُن پر ریاست ِگجرات میں مذہبی تشدد پر مبنی فسادات میں ملوث ہونے کا الزام تھا، جن واقعات میں 1000 سے زائد مسلمان ہلاک ہوئے تھے۔

ہفتے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد، اتوار کے روز نئے بھارتی رہنما نے نیویارک میں ایک راک اسٹار کے طور پر ’مڈیسن اسکوائر گارڈن‘ میں منعقدہ ایک استقبالی تقریب میں شرکت کی، جس میں 18000 سے زائد بھارتی نژاد امریکی موجود تھے۔

مسٹر مودی نے بھارتی تارکین وطن کو یقین دلایا کہ اُن کی حکومت کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس کے باعث ’اُن کو کوئی پشیمانی ہو‘، جب کہ اُنھوں نے بتایا کہ اِس وقت بھارت میں ’امید اور جوش و ولولے کی فضا‘ جاری ہے۔

وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر اوباما نے دونوں ملکوں کی طرف سے اختیار کی گئی ساجھے داری کو ’چلیں ساتھ ساتھ‘ کے نعرے سے تعبیر کیا، جس کے نتیجے میں، آئندہ برسوں کے دوران، بین الاقوامی سلامتی اور امن کی راہیں کھلیں گی۔

دونوں ملکوں کی طرف سے کی جانے والی مشترکہ فوجی مشقوں کے علاوہ خلاٴ، کاروبار اور سائنس کے میدان میں تعاون سے دنیا میں ’سب کے لیے بہتر مستقبل کی راہ کھلے گی۔‘


XS
SM
MD
LG