رسائی کے لنکس

امریکہ میں نیا سیاسی تنازع

  • جم میلون

صدر براک اوباما نیو یارک میں اس مقام کے نزدیک جہاں 2001 میں دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا ایک مسجد اور اسلامی سینٹر کی مجوزہ تعمیر کے سیاسی تنازعے میں الجھ گئے ہیں۔صدر نے حال ہی میں لوئر مین ہیٹن کے علاقے میں اس اسلامی مرکز کی تعمیر کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ان پر قومی سطح پر بحث چِھڑ گئی ہے ۔ اس بحث کا اثر اس سال کے وسط مدتی انتخابات پر پڑ سکتا ہے ۔

نیو یارک میں گراؤنڈ زیرو کے نزدیک ایک مسجد کی تعمیر کے بارے میں صدر اوباما کے حالیہ تبصرے سے ، امریکی کانگریس کے نومبر کے انتخابات سے قبل، یہ تنازع قومی سطح کی بحث میں تبدیل ہو گیا ہے ۔ یہ بحث صدر اوباما کے ان الفاظ سے شروع ہوئی’’گراؤنڈ زیرو واقعی مقدس مقام ہے ۔ لیکن میں واضح طور سے کہنا چاہتا ہوں کہ ایک شہری اور صدر کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کے وہی حقوق حاصل ہیں، جو اس ملک میں رہنے والے دوسرے تمام لوگوں کو حاصل ہیں اور اس میں لوئر مین ہیٹن میں نجی جائداد پر ایک کمیونٹی سینٹر میں عبادت گاہ تعمیر کرنے کا حق بھی شامل ہے ۔‘‘

وائٹ ہاؤس میں یہ کلمات ادا کرنے کے اگلے روز، مسٹر اوباما نے کہا کہ اگرچہ وہ مسلمانوں کے گراؤنڈ زیرو کے نزدیک ایک کمیونٹی سینٹر اور مسجد بنانے کے حق کی حمایت کرتے ہیں، لیکن وہ اس پہلو پر تبصرہ نہیں کریں گے کہ ایسا کرنا دانشمندی ہو گی یا نہیں۔

صد ر نے جو کچھ کہا اس سے وہ بہت سے لوگ ناراض ہوئے جو دہشت گردوں کے 2001 کے حملوں کے مقام کے اتنے قریب مسجد کی تعمیر کے مخالف ہیں۔ ان میں الاسکا کی سابق گورنر سارا پیلن شامل ہیں جن پر بعض قدامت پسند 2012 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے زور ڈال رہے ہیں۔ انھوں نے کہا’’اس سے ہماری دل آزاری ہوئی ہے۔ یہ ان بے گناہ لوگوں کی توہین کے مترادف ہے جنہیں نائن الیون کے دن قتل کیا گیا تھا۔ آپ اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں؟ صدر یہ سمجھتے ہی نہیں کہ ایسے اقدام سے بے حسی کا اظہار ہوتا ہے ۔‘‘

جب تک صدر نے اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا تھا، مسجد کی تعمیر کا تنازع نیو یارک سٹی میں بڑی حد تک مقامی مسئلہ تھا اور اب بعض ریپبلیکنز کو امید ہے کہ وہ اسے امریکی کانگریس کے نومبر کے انتخاب میں قومی بحث کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

CNN نے حال ہی میں اس موضوع پر رائے عامہ کا جو سروے کیا تھا اس کے مطابق، سروے میں شامل 68 فیصد لوگ دہشت گردوں کے حملوں کے مقام کے اتنے قریب مسجد بنانے کے مخالف ہیں۔ لیکن کچھ لوگ صدر اوباما کو اس بات کا کریڈٹ دے رہے ہیں کہ انھوں نے اصول پر قائم رہتے ہوئے، ان لوگوں کا دفاع کیا جو مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ نہاد عوض قونصل آن امریکن۔اسلامک ریلیشنز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ انھوں نے وائس آف امریکہ کی ڈیوا سروس سے کہا’’یہ امریکہ کے آئینی حقوق کے اصول ہیں جنہیں مسجد کے مخالفین کے جذباتی احساسات کی وجہ سے مسخ نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ان پر سودے بازی کی جانی چاہیئے۔ بعض سیاستدانوں نے بڑ ے منظم انداز سے مسجد کے خلاف رد عمل کا طوفان کھڑا کر دیا ہے ۔ صدر کا بیان ضروری اور بر وقت تھا۔‘‘

لیکن اس بیان پر ملک کے اندر جو رد عمل ہوا ہے، اس کے مقابلے میں بین الاقوامی سطح پر اسے مختلف انداز سے دیکھا جائے گا۔ جارج میسن یونیورسٹی کے جان فارینا کہتے ہیں’’ان کے بیان کے متن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ دیکھیئے ، ہم اپنے اصولوں پر کاربند رہتے ہیں چاہے ان سے دشواریاں ہی پیدا کیوں نہ ہوں ۔ اس پر کسے اعتراض ہو سکتا ہے؟ یہ بڑا عمدہ پیغام ہے۔لیکن مشکل یہ ہے کہ امریکی اس پیغام کو اس طرح سننا نہیں چاہتے۔‘‘

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ گراؤنڈ زیرو کے اتنے نزدیک مسجد بنانے کی تجویز پر عام لوگوں کی طرف جو مخالفت ہو رہی ہے، نومبر میں صدر کو اور ان کی پارٹی کے ڈیموکریٹ ارکان کو اس کی سیاسی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ یونیورسٹی آف ورجینیا کے کہتے ہیں’’ایک ایسے مسئلے پر جسے وائٹ ہاؤس نے بجا طور پر مقامی مسئلہ کہا تھا، صدر کا مضبوط موقف اپنانا ،سیاسی طور پر دانشمندی کے خلاف اور غیر ضروری فعل تھا۔ اس سے ان ڈیموکریٹک امید واروں کے لیے ایک بالکل غیر ضروری مسئلہ پیدا ہو گیا جنہیں نومبر میں انتخاب لڑنا ہے۔ ظاہر ہے کہ اوباما نومبر میں انتخاب نہیں لڑ رہے ہیں۔‘‘

بہت سے ڈیموکریٹس کی ترجیح یہ ہوگی کہ وہ مسجد کے قضیے میں نہ الجھیں۔ سینٹ میں اکثریتی پارٹی کے لیڈر ہیری ریڈ سمیت کچھ ڈیموکریٹس نے صدر سے اختلاف کا اظہار کیا ہے ۔ ریڈ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اسلامک سینٹر بنانے والوں کو کوئی اور جگہ تلاش کرنی چاہیئے ۔ ریڈ کو اپنی ریاست Nevada میں اپنے دوبارہ انتخاب میں سخت مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے ۔

تا ہم، جارج میسن یونیورسٹی کے پروفیسر Sabato کا خیال ہے کہ نومبر کے انتخابات میں تمام تر توجہ ملکی معیشت پر ہوگی۔ مسجد کا تنازع، غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ اور ملک کو درپیش دوسرے تمام چیلنج پیچھے رہ جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG