رسائی کے لنکس

اوباما بدھ کو بالٹی مور کی مسجد کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاؤس


فائل

فائل

وائٹ ہاؤس پریس سکریٹری، جوش ارنیسٹ نے منگل کے روز کہا کہ ’’یہ مسلمان امریکی کمیونٹی کو ایک واضح پیغام دینے کے مترادف ہوگا کہ امریکہ کے صدر اس ملک میں آپ کی روایات اور ورثے کےمطابق، خدا کی عبادت کرنے کے آپ کے حق کا بھرپور دفاع کریں گے‘‘

چاہے قاہرہ ہو، استنبول ہو یا جکارتہ، گذشتہ سات برس کے دوران امریکی صدر براک اوباما نے کئی مقامات پر مساجد کا دورہ کیا ہے۔

اپنی صدارت میں پہلی بار، بدھ کو اوباما امریکہ کی ایک مسجد کا دورہ کریں گے، اور بالٹی مور میں مسلمان امریکیوں پر مشتمل اسلامی سوسائٹی کے ارکان سے ملاقات کریں گے۔

وائٹ ہاؤس پریس سکریٹری، جوش ارنیسٹ نے منگل کے روز کہا کہ ’’یہ مسلمان امریکی کمیونٹی کو ایک واضح پیغام دینے کے مترادف ہوگا کہ امریکہ کے صدر اس ملک میں آپ کی روایات اور ورثے کےمطابق، خدا کی عبادت کرنے کے آپ کے حق کا بھرپور دفاع کریں گے‘‘۔

وائٹ ہاؤس ترجمان نے کہا کہ اوباما مسلمان امریکی رہنماؤں کے ساتھ راؤنڈٹیبل اجلاس کریں گے، جس میں وہ اُن کے مسائل سنیں گے کہ اُن کی سوچ کیا ہے، جس کے بعد وہ بالٹی مور کی مسجد میں لوگوں کے اجتماع سے مخاطب ہوں گے۔

ارنیسٹ نے توجہ دلائی کہ ’’یہ کئی چیزیں کرنے کا ایک موقع ہوگا۔ پہلا یہ کہ ہمارے معاشرے میں مسلمان امریکیوں کے اہم کردار کا اعادہ کرنا اور مذہبی آزادی کے اصول کو تسلیم کرنے کے عزم کا اظہار کرنا‘‘۔

مسلمانوں کے خلاف تعصب کا توڑ

اوباما کی جانب سے امریکہ کی مسجد کا پہلا دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب جاری صدارتی انتخابی مہم میں ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار، ڈونالڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کا ڈیٹابیس بنانے اور دو دسمبر کو کیلی فورنیا کے شہر، سان برنارڈینو میں دہشت گرد حملے کے تناظر میں یہ مطالبہ کرنا کہ نئے مسلمان تارکین وطن کو امریکہ میں آنے پر عارضی پابندی لگائی جائے۔

ایسے میں جب ریپبلیکن پارٹی کے متعدد معروف ارکان، جن میں سینیٹر جان مکین اور صدارتی امیدوار جیب بش نے مسلمانوں کی آمد پر پابندی کے مطالبے کی مذمت کی ہے؛ جب کہ گذشتہ سال بین کارسن نے کہا تھا کہ اسلام پر عقیدہ رکھنے والا شخص امریکی صدر بننے کے قابل نہیں۔

ستمبر 2015ء میں این بی سی کے ’میٹ دی پریس‘ پروگرام کو انٹرویو دیتے ہوئے، کارسن نے کہا تھا کہ ’’میں اس بات کی وکالت نہیں کروں گا کہ ہم کسی مسلمان کو ملک کا سربراہ بناسکتے ہیں‘‘۔

صدر اوباما نے نہ صرف صدارتی امیدواروں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف بیان بازی کا براہ راست جواب دیا ہے، بلکہ متعدد بار ایسے بیانات کی مذمت کی ہے؛ اور اپنے آخری ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب میں اُنھوں نے بہت ہی بھرپور انداز سے مسلمانوں کا دفاع کیا۔

اُنھوں نے امریکیوں پر زور دیا کہ ایسی سیاست کو مسترد کردیں جس میں نسل یا مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو ہدف بنایا جائے۔

تیرہ جنوری کی تقریر میں، اوباما نے کہا کہ ’’جب سیاستدان مسلمانوں کو بے توقیر کرتے ہیں، چاہے بیرون ملک یا ہمارے اپنے شہریوں کو، جب کسی مسجد کی بے حرمتی کی جائے، یا کسی بچے کو گالیاں دی جاتی ہیں، اس سے ہم محفوظ نہیں ہوتے۔ یہ ایسا نہیں ہوتا جیسے ہو رہا ہے۔ یہ یکسر غلط ہے‘‘۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری، جوش ارنیسٹ نے منگل کو کہا کہ مسلمانوں کو اجازت ہونی چاہیئے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کریں، جن کے خلاف حکومت کی جانب مداخلت نہیں کی جانی چاہیئے، ناہی انتخابی مہم کے دوران منقسم کرنے کی غرض سے بیان بازی کی جانی چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG