رسائی کے لنکس

‘آنترے پرینیورشپ’ اجلاس کا مقصد ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا ہے: صدر اوباما

  • میریڈتھ بیول

امریکی وزیرِ تجارت کی افتتاحی تقریر

امریکی وزیرِ تجارت کی افتتاحی تقریر

یہ دو روزہ کانفرنس صدر اوباما کے اُس وعدےکے پیش نظرہورہی ہے جو انہوں نے گذشتہ جون میں مسلم اکثریتی ملکوں کے ساتھ امریکہ کے مزید گہرے تعلقات قائم کرنے کے بارے میں قاہرہ میں ایک تقریر میں کیا تھا

پیر کو آنترے پرینورشپ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، امریکی صدر براک اوباما نے نئے پروگراموں کا اعلان کیا جن کا مقصد آنر ے پرینیورز (کاروباری شخصیات) کو اکٹھا کرنا ہے ، تاکہ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا جاسکے۔

اُنھوں نے کہا کہ، امریکہ متعدد نئے تبادلے کے پروگرام شروع کر رہا ہے ۔

‘ہم مسلمان اکثریت والے ملکوں کے کاروباری اورسماجی آنترے پرینیورز کو امریکہ لائیں گے اور اُن کے ہم منصب امریکی ساتھیوں کو اُن کے تجربات سے سیکھنے کے لیے اُن ملکوں میں بھیجیں گے۔’

صدر نے ٹیکنالوجی کے شعبوں میں خواتین کی مدد کے لیے ایک نئے پروگرام کا اعلان کیا جس کے تحت اُنھیں entrepreneurshipsاور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے امریکہ آنے کا موقع ملے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ گلوبل ٹیارالوجی اور اختراع کے فنڈ کا اعلان اُنھوں نے گذشتہ برس قاہرہ میں کیا تھا، اور اِس فنڈ میں ٹیلی مواصلات، ہیلتھ کیئر، تعلیم اور انفرا سٹرکچر جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے دو ارب ڈالر سے زائد نجی سرمایہ فعال کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ آنترے پرینیورشپ کا دوسرا اجلاس اگلے برس ترکی میں ہوگا۔

امریکہ کے وزیر تجارت گیری لوک نے پیر کے روز واشنگٹن میں entrepreneurکانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد اور خود مختار کاروبار امریکہ اور مسلم معاشروں کو متحد کرتا ہے اور یہ تبدیلی لانے کا ایک طاقتور وسیلہ ہے۔

انودں نے کانفرنس میں شریک تاجروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اُن جیسے لیڈر وہ اختراعات لے کر آئیں گے، جو فروغ پانے کےلیےدنیا بھر کی معیشتوں کےلیے ضروری ہوں ۔ کانفرنس میں 50مسلمان ممالک کے 250سے زائد entrepreneursشرکت کر رہے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے قاہرہ میں گذشتہ جون دنیائے اسلام سے خطاب کرتے ہوئے جو وعدہ کیا تھا اُس کی پاسداری کرتے ہوئے اُنھوں نے کامیاب کاروباری شخصیات کو واشنگٹن آنے کی دعوت دی ہے جو مسلمان اکثریت والے ملکوں کے ساتھ امریکی رابطہ کاری کو تقویت دینے کی کوشش ہے۔

امریکی وزیرِ تجارت نے کہا کہ مسلمان کاروباری اداروں اور تجارت کو فروغ دینے سے نہ صرف دنیائے اسلام کی مدد ہوگی بلکہ امریکی سکیورٹی اور تجارت میں بھی پیش رفت ہوگی۔

لوک نے کہا کہ یہ اجلاس صدر کی طرف سے جامع رابطہ کاری سے وابستگی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جس کی بنیاد باہمی احترام، باہمی مفادات اور باہمی ذمہ داری پر ہے۔

اُنھوں نے کانفرنس میں شریک نمائندوں کوبتایا کہ مسلمان ملکوں میں رہنے والے ایک ارب سے زائد افراد عالمی معیشت میں ایک ایسے بڑے رزرو کی نمائندگی کرتے ہیں جسے پورے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔

لوک نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ مضبوط تر اقتصادی تعلقات کے ذریعے دنیا کے مسلمانوں کے ساتھ اپنے رابطوں میں وسعت لائے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ کاروباری یعنی entrepreneurial قوت ہمارے ساحل کے پار پھیلی ہوئی ہے۔ یہ امریکہ اور مسلمان اکثریت والے ملکوں کو مشترکہ عہد کے ذریعے متحد کرتی ہے۔

دو روزہ کانفرنس میں کامیاب کاروباری شخصیات، نوجوان تاجر، سرکاری عہدے دار، بینکر اور دوسرے ماہرین شامل ہیں۔

انڈونیشیا کے تاجر سینتاگو اونو 1990ء کی دہائی کے اواخت میں ایشیائی اقتصادی بحران کے دوران اپنی ملازمت کھو بیٹھے تھے۔

اُنھوں نے بتایا کہ اُنھوں نے محض گزر اوقات کے لیے اپنے کاروبار کا آغاز کیا اور اب دس برس کے بعد فوربس میگزین میں ایک اندازے کے مطابق اُن کی کاروباری حیثیت تقریباً 400ملین ڈالر ہے۔

اونو نے بتایا کہ بنیادی طور پراُنھوں نے انڈونیشیا میں پہلی نجی ایکوئٹی فرم کامیابی سے تشکیل دی جو قدرتی وسائل اور انفراسٹرکچر پر توجہ مرتکز کرتی ہے اور انڈونیشیا میں چار ملازموں سے شروع ہونےوالی اس فرم میں اب 15000افراد ملازمت کرتے ہیں۔

فلسطینی خاتون واعد الطویل مغربی کنارے کے شہر رملا سے ایک 20سالہ طالبہ ہیں۔ عرب بینک کے ایک سرکردہ شخص کی مدد سے اُنھوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ نوجوان تاجروں کے لیے ایک مقابلے میں حصہ لیا اور پھر ایوینٹ پلاننگ کے کاروبار کا آغاز کیا۔

سات ماہ کے دوران اُن کے حصص کے خریداروں کو اپنی سرمایہ کاری پر 200فی صد منافع ہوا۔

اُنھوں نے کہا کہ ہمارے لیے سیکھنے کا ایک بڑا موقع تھا کہ کاروبار کس طرح سے منظم کیا جاتا ہے۔ ‘ہم نے اِس سے یہ سیکھا کہ ہمارے پاس عزم اور کام کرنے کی لگن ہے تو پھر کاروبار کے لیے کوئی بھی اچھا خیال فلسطین میں بھی کامیاب ہو سکتا ہے، چاہے ہم نوجوان ہوں اور چاہے اِس سے پہلے کاروبار میں ہمیں کوئی تجربہ بھی نہ ہو۔’

اِس کانفرنس میں اختراع اور ٹیکنو لوجی اور تجارت میں عورتوں کو مضبوط کرنا جیسے موضوعات شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG