رسائی کے لنکس

صدر اوباما کی مسلم دنیا سے بہتر تعلقات کی خواہش کو امریکی عوام کس نظر سے دیکھتے ہیں


صدر اوباما کی مسلم دنیا سے بہتر تعلقات کی خواہش کو امریکی عوام کس نظر سے دیکھتے ہیں

صدر اوباما کی مسلم دنیا سے بہتر تعلقات کی خواہش کو امریکی عوام کس نظر سے دیکھتے ہیں

اگرچہ تجزیہ کار صدر اوباما کےقاہرہ خطاب میں مسلم ممالک سے خوشگوار تعلقات کی خواہش کو خوش آئند قرار دیتے رہے ہیںٕ تاہم ان کا یہ بھی کہناہے کہ اس تقریر کے بعد بظاہر کوئی عملی پیش رفت دکھائی نہیں دی۔آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا عام امریکی عالمی سطح پر کوئی واضح تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں۔

صدر اوباما نے پچھلے سال قاہرہ میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ میں یہاں مسلم دنیا اور امریکہ کے درمیان ایک نئے دور کا آغاز کرنے آیا ہوں۔کیا اس نئے دور کا آغاز ہوچکاہے؟

پروفیسر کیلی کہتے ہیں کہ میرے خیال سے عام امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے ڈائیلاگ ایک ضروری اور اہم قدم ہے۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے مذہبی تعلیمات کے شعبے سے منسلک پروفیسر کیلی پمبرٹن کہتی ہیں کہ اس خطاب کے بعد جہاں مسلمانوں کو یہ محسوس ہوا کہ کوئی انکی آواز سن رہا ہے وہیں کچھ امریکیوں نے یہ بھی سوچا کہ یہ مسلم دنیا کے شدت پسند عناصر کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

ان کا کہناتھا کہ دائیں بازو کے حلیف کچھ لوگوں نے ، یہ محسوس کیا کہ یہ خطاب ہمارے دشمنوں کی حوصلہ افزائی تھی۔ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ چیز امریکی شناخت کے لیے خطرہ ہے ۔ اس حوالے سے وہ بات کرتے ہیں فورٹ ہڈ میں ہونے والے قتل عام کی، اور پچھلے سال کرسمس پر اور حال ہی میں نیو یارک میں دھشت گردی کی ناکام کوششوں کے بارے میں۔ اور یہ کہ اس حوالے سے صدر اوباما کی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہوئیں۔

لیکن امریکی مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کی سربراہ حزامی برمادا کہتی ہیں کہ اس خطاب نے امریکی مسلمانوں کو بھی ان کی شناخت دی۔

ان کا کہناتھا کہ ایک امریکی مسلمان ہونے کے ناطے میرے خیال میں اس خطاب سے مسلمانوں کو ان کا انسانی حق ملا۔ انکی آواز کی اہمیت اجاگر ہوئی اور وہ بھی اس ڈائیلاگ کا حصہ بنے جو اس سے پہلے ممکن نہیں تھا۔

تجزیہ کار صدر اوباما کے خطاب کو اسلام اور امریکہ کی درمیان ایک مفاہمتی دور کا آغاز قرار دیتے ہیں لیکن ایک عام امریکی اس بارے میں کیا سوچتا ہے؟ میل کا کہنا ہے کہ میرے خیال سے اس سے مشرق وسطی میں ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ فلسطینی عوام سے مذاکرات آسان ہوتے اگر اوبا ما یہ خطاب نہ کرتے۔انہوں نے کہا کہ اوباما نے تمام ملکوں اور رنگ و نسل کے لوگوں کو متحد کرنے کی بات کی ۔ کیونکہ وہ امن چاہتے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے اسکا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مسلمان ممالک بھی اوباما کے ساتھ نہیں۔

فیمیل کا کہناتھا کہ میں امید کرتی ہوں کہ دنیا بھر میں لوگ نے صدر اوباما کو ایک ایسے امریکی کے طور پر سنا ہوگا جو چاہتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھیں ، جانیں ، قریب آئیں اور مل کر آگے بڑھیں۔

اگرچہ امریکی عوام میں صدر اوباما کے مسلم دنیا سے خطاب کے متعلق ملے جلے تاثرات پائے جاتے ہیں لیکن امریکی عوام پر امید ہیں کہ آنے والے وقت میں بہتر عملی اقداما ت کیے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG