رسائی کے لنکس

کانگریس قومی قرضوں کے مسئلے کے حل پر توجہ دے


کانگریس قومی قرضوں کے مسئلے کے حل پر توجہ دے

کانگریس قومی قرضوں کے مسئلے کے حل پر توجہ دے

وہائٹ ہاؤس میں صدر براک اوباما اور کانگریس کے راہنماؤں کے ساتھ مختصر ملاقات کے بعد صدر کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کانگریس سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک کو قرضوں کی ادائیگی کے مسئلے پر نادہندگی سے بچانے کے لیے کام کریں ۔

وہائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مسٹر اوباما نے اپنے اس موقف کو پھر دوہرایا ہے کہ وہ مختصر مدت کے لیے قومی قرضوں کی حد میں اضافے کی اجازت کے خلاف ہیں کیونکہ ان کا کہناہے کہ اس عمل سے قومی کریڈیٹ ریٹنگ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کو معیشت کے ساتھ بے رحمانہ سیاسی کھیل بند کردینے چاہیں۔

سینیٹ کے اقلیتی راہنما مچ میک کونیل نے اس کے جواب میں کہا کہ کانگریس میں دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لیڈر ایک نئی قانون سازی پر کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں، جس کے ذریعے نادہندگی سے بچنے کے ساتھ ساتھ اخراجات کو بھی مناسب حد تک گھٹایا جاسکے ۔

اس سے قبل مسٹر اوباما نے ہفتے کے روز اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا کہ وہ قانون سازوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ دو اگست کو حکومت کے پاس مالی وسائل ختم ہونے کے بعد قومی قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی سے ملک کو کس طرح بچایا جاسکتا ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ دونوں فریقوں کو لازمی طورپر کسی سمجھوتے پر پہنچنا ہوگا، بصورت دیگر کچھ حاصل نہیں ہوسکے گا۔

ایوان نمائندگان کے اسپیکر جان بنیر نے جمعے کے روز کہاتھا کہ صدر اوباما کی تجویز میں ٹیکس آمدنی میں اضافے کا مطالبہ قابل قبول نہیں ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں ان افراد پر ٹیکسوں کی شرح بڑھ جائے گئی جو کاروباروں میں سرمایہ لگا کر نئی ملازمتیں پیدا کرسکتے ہیں۔ اسپیکر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکہ اپنے قومی قرضوں کی عدم ادائیگی سے بچ سکتا ہے۔

مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ انہوں نے ایک انتہائی شفاف تجویز پیش کی ہے۔

صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنی تجاویز میں سماجی بھلائی کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنی تجاویز میں انہوں نے ٹیکسوں میں اضافے کی شرح اس حد تک کم کردی ہے جس پر دونوں سیاسی جماعتوں کے سینیٹروں کے ایک گروپ نے اتفاق کیا تھا۔

ادھر ری پبلیکنز پارٹی کے ہفتے وار خطاب میں جب ہنسارلنگ نے کہا کہ اگر ملک کو نادہندگی سے بچانا ہے تو صدر اوباما اور ان کے ساتھیوں کو ری پبلیکنز کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG