رسائی کے لنکس

امریکہ کو دہشت گردی کا کوئی واضح خطرہ لاحق نہیں: اوباما


صدر نے کہا کہ امریکی اپنے اعلیٰ اقدار کی سربلندی کو اولین ترجیح دیں، اور دشمنوں کی جانب سے خوف زدہ کرنے کی کوششوں کو خاطر میں نہ لائیں؛ اور یہ کہ 'قومی سلامتی سے متعلق تمام ادارے چوکنہ ہیں، اور اپنا کام تندہی اور مستعدی سے بجا لارہے ہیں'

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ امریکہ کو کسی قسم کا دہشت گردی کا کوئی واضح خطرہ موجود نہیں۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ، 'ہمیں چوکنا رہنا ہوگا، اور اِس ضمن میں، ہماری قومی سلامتی کی پیشہ وارانہ ٹیم اپنا کام تندہی سے بجا لا رہی ہے'۔

بریفنگ کے بعد صدر نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کیا۔ سالانہ تعطیلات سے قبل، صدر براک اوباما کو جمعرات کے روز ورجینا کے شہر، مک لین میں واقع انسداد دہشت گردی کے قومی مرکز میں سلامتی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

صدر نے واضح کیا کہ ضرورت اس بات کی ہے امریکی اپنے اعلیٰ اقدار کی سربلندی کو اولین ترجیح دیں، اور دشمنوں کی جانب سے خوف زدہ کرنے کی کوششوں کو خاطر میں نہ لائیں۔

بقول اُن کے، 'قومی سلامتی سے متعلق ہمارے تمام ادارے چوکنہ ہیں، اور وہ اپنا کام تندہی اور مستعدی سے بجا لارہے ہیں۔'

صدر اوباما نے جمعرات کو ایک پیغام جاری کیا تھا جس میں امریکی عوام کی حفاظت کو 'اولین ترجیح' قرار دیا گیا تھا۔ اُنھوں نے یہ بیان اِسی ماہ کیلی فورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں ہونے والے مہلک دہشت گرد حملے اور اس سے قبل نومبر میں پیرس میں خونریز دہشت گرد کارروائی میں ہونے والے قتل عام کے تناظر میں دیا تھا، جو دونوں ہی داعش کے دہشت گرد گروپ کے حامیوں کی کارستانی ہیں۔

صدر نے سالانہ تعطیلات پر جانے والے امریکیوں سے کہا کہ وہ مطمئن رہیں، ملک کی قومی سلامتی، انٹیلی جنس، فوج اور قانون کا نفاذ کرنے والے ادارے چوکنہ ہیں، اور 'آپ کو کسی ڈر خوف کی ضرورت نہیں'۔

بریفنگ کا مقصد اعلیٰ ترین امریکی اداروں کی جانب سے حالات کا تجزیہ پیش کرنا، درکار اقدام کو اجاگر کرنا اور ملک کو کسی دہشت گردی کے عندیہ سے آگاہ کرنا ہوتا ہے، تاکہ ملکی تحفظ کے کام کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں نائب صدر جو بائیڈن کے علاوہ وزرائے خارجہ اور ہوم لینڈ سکیورٹی، سربراہ نیشنل سکیورٹی کونسل، اٹارنی جنرل، سی آئی اے اور ایف بی آئی کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ اہل کار شریک تھے۔

بدھ کو امریکہ نے دہشت گردی کے خطرے سے متعلق انتباہی نظام کو بہتر بناتے ہوئے اس میں دہشت گردی کے بارے میں خطرے کے بلیٹن کے اجرا کو شامل کیا ہے، جس کا مقصد عوام کو امکانی خدشات سے آگاہ رکھنا ہے۔ ہوم لینڈ سکیورٹی کے وزیر، جے جانسن نے بدھ کو 'درمیانے درجے' کے انتباہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ 'اس وقت امریکہ کے لیے کسی خطرے کے بارے میں کوئی مخصوص قابل اعتماد اطلاع نہیں'۔

صدر نے کہا کہ ہم دہشت گردوں کو ملک سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں؛ اور قومی سلامتی کے اداروں نے ماضی میں دہشت گردی کی متعدد سازشیں ناکام بنائی ہیں۔

صدر اوباما نے پیر کے روز پیٹاگان کا دورہ کیا تھا، جہاں اُنھوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ امریکی قیادت میں کام کرنے والا فوجی اتحاد عراق اور شام میں داعش کے شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ دہشت گرد گروپ زمین پر تسلط سے فارغ ہوتا جارہا ہے، بلکہ اس کے رہنما یکے بعد دیگرے ہلاک ہو رہے ہیں۔ بقول اُن کے، 'دہشت گردوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ ہم اُن کو کہیں اور کسی طور پر بھی چھپنے کی راہ نہیں دیں گے'۔

تفصیل کے لیے مندرجہ ذیل وڈیو رپورٹ پر کلک کیجیئے:

XS
SM
MD
LG